بیت بازی

by Other Authors

Page 322 of 871

بیت بازی — Page 322

322 یہ ایسے مذہبوں میں کہاں دکھائیے ہے ورنہ گزاف قصوں یہ ہرگز نہ جائیے راه تنگ ہے؛ یہی ایک راہ ہے دلبر کی مرنے والوں ہر دم نگاه ہے یا بد زباں دکھاتے ہیں؟ یا ہیں وہ بدگماں باقی خبر نہیں ہے؛ کہ اسلام ہے کہاں یا کم سے کم یہ ہو؛ کہ میں زنداں میں جا پڑوں یا یہ کہ ذلتوں سے میں ہو جاؤں سرنگوں یا مخبری سے ان کی؛ کوئی اور ہی بلا آجائے مجھ پہ یا کوئی مقبول ہو دعا یہ بات کیا ہوئی؛ کہ وہ تم سے الگ رہا کچھ بھی مدد نہ کی نہ سنی کوئی بھی دعا کروں کس منہ سے شکر؛ اے میرے داور! ZA ۷۹ ۸۰ ΔΙ ۸۲ ۸۳ ۸۴ ۸۵ ΛΥ نہ سمجھے کوئی اس کو ؛ جز عاشقاں کیا احسان تیرا ہے بنده پرور ممکن ہے؛ دیوانگی عشق کا کشفی ہو ماجرا دکھایا گیا ہو۔بحام خدا ہے نشاں تو تھا مدعا اسی ابھی ہے ۸۷ یہی سالکوں کا ۸۸ ۸۹ 90 ۹۱ یہ ویدوں کا دعوی تو ٹھلتی تھیں آنکھیں ذرا کہ بعد اُن کے ملہم نہ ہوگا کبھی یقیں ہے؛ کہ نانگ تھا ملہم ضرور نہ کر وید کا پاس؛ اے پرغرور! کھلا معیار ہے دیں کی تحقیق کا فرق دجال صدیق کا و نانگ کرنے لگے جب جدا رہے زور کر کر کے ہے مدعا یہ چولہ تھا اُس کی دعا کا اثر قدرت کے ہاتھوں کا تھا سربسر رہنما اور یہی پیر تم اُٹھو یارو! اب مت کرو راه یہ چولہ؛ کہ قدرت کی تحریر ہے یہی یہی راہ ہے؛ جس کو بھولے ہو نور خدا ہے خدا تہ ملا تحریر چولہ کی ہے اک زباں ارے جلد آنکھوں ہے اپنی لگا سنو! وہ زباں سے کرے کیا بیاں یہی پاک چولہ رہا اک نشاں گرو ނ کہ تھا خلق پر مہرباں یہی ملک و دولت کا تھا اک ستوں عمل بد کئے ہو گئے سرنگوں ؟ یہ تین جو پسر ہیں؛ تجھ سے ہی یہ ثمر ہیں یہ میرے بارور ہیں؛ تیرے غلام در ہیں ۹۲ ۹۳ ۹۴ ۹۵ ۹۶ ۹۸ ۹۹