بیت بازی

by Other Authors

Page 300 of 871

بیت بازی — Page 300

300 ZA ۷۹ ۸۰ ΔΙ ۸۲ ۸۳ ۸۴ ۸۵ ۸۶ M ۸۸ 19 ۹۰ ہر وقت جھوٹ سچ کی تو عادت نہیں رہی نور خدا کی کچھ بھی علامت نہیں رہی ہاں آپ تم نے چھوڑ دیا دیں کی راہ کو عادت میں اپنی کر لیا فسق و گناہ کو ہم اپنا فرض دوستو! اب کر چکے ادا اب بھی اگر نہ سمجھو تو سمجھائے گا خدا زیروز یہ مر گئے ہم پر نہیں تم کو خبر ہو گئے ہم درد ہو گیا دیں کفر کے حملوں سے چور چُپ رہے کب تک خداوند غیور ہوتا ہے وہ اُسی کا؛ جو اُس کا ہی ہو گیا ہے اس کی گود میں جو گرا اس جناب میں ہر چشم مت دیکھو اسی کو دکھاتی ہے ہر دل اسی کے عشق سے ہے التہاب میں ہم کو تو اے عزیز دکھا اپنا وہ جمال کب تک وہ منہ رہے گا حجاب و نقاب میں ہے سر رہ پر کھڑا نیکوں کی وہ مولے کریم نیک کو کچھ غم نہیں ہے؛ گو بڑا گرداب ہے ہاتھ سے جاتا ہے دل؛ دیں کی مصیبت دیکھ کر پر خدا کا ہاتھ اب اس دل کو ٹھہرانے کو ہے ہوگئے حق کے سخت نافرماں کر دیا دیں کو قوم پر قرباں ہندو کچھ ایسے بگڑے، دل پر ہیں بغض و کہیں سے ہر بات میں ہے تو ہیں؛ طرز ادا یہی ہے ہم بد نہیں ہیں کہتے ؛ ان کے مقدسوں کو تعلیم میں ہماری حکم خدا یہی ہے ہم کو نہیں سکھاتا وہ پاک بد زبانی تقویٰ کی جڑھ یہی ہے؛ صدق وصفا یہی ہے ہم نے نہیں بنائیں یہ اپنے دل سے باتیں ویدوں سے اے عزیزو! ہم کو ملا یہی ہم نے ہے جس کو مانا؛ قادر ہے وہ توانا اس نے ہے کچھ دکھانا؟ اس سے رجا یہی ہے ہم مر چکے ہیں غم سے؟ کیا پوچھتے ہو ہم سے اس یار کی نظر میں؛ شرط وفا یہی ہے ہر جاز میں کے کیڑے دیں کے ہوئے ہیں دشمن اسلام پر خدا سے آج ابتلا یہی ہے ہم تھے دلوں کے اندھے سوسو دلوں میں پھندے پھر کھولے جس نے جندے؛ وہ مجتبی یہی ہے ہم خاک میں ملے ہیں؛ شاید ملے وہ دلبر جیتا ہوں اس ہوس سے؛ میری غذا یہی ہے ہم نے نہ عہد پالا؛ یاری میں رخنہ ڈالا پر تو ہے فضل والا؛ ہم پر کھلا یہی ہے 99 ہمیں کچھ کیں نہیں تم سے پیارو! نہ کیں کی بات ہے؛ تم خود بیچارو ۹۱ ۹۲ ۹۳ ۹۴ ۹۵ ۹۶ ۹۷ ۹۸ ہے