بیت بازی — Page 285
285 29 ۸۰ ΔΙ ۸۲ ۸۳ ۸۴ ۸۵ ΛΥ وہ دیں ہی چیز کیا ہے؟ کہ جو رھنما نہیں ایسا خدا ہے اس کا؛ کہ گویا خدا نہیں وہ دن بھی ایک دن تمہیں یارو نصیب ہے خوش مت رہو؛ کہ گوچ کی نوبت قریب ہے وہ لغو دیں ہے؛ جس میں فقط قصہ جات ہیں اُن سے رہیں الگ جو سعید الصفات ہیں وہ رہ؛ جو یار گمشدہ کو کھینچ لاتی وہ رہ؛ جو یار گمشدہ کو ڈھونڈ لاتی ہے وہ رہ؛ جو جامِ پاک یقیں کا پلاتی ہے ہے وہ رہ؛ جو جامِ پاک یقیں کا پلاتی ہے وہ رہ؛ جو اس کے ہونے پر محکم دلیل ہے وہ رہ؛ جو اُس کے پانے کی کامل سبیل ہے وہ رہ؛ جو ذاتِ عزّ وجل کو دکھاتی ہے وہ رہ؛ جو دل کو پاک و مطہر بناتی ہے وہ اس کے ہو گئے ہیں؛ اُسی سے وہ جیتے ہیں ہردم اسی کے ہاتھ سے اک جام پیتے ہیں وہ تازہ قدرتیں؛ جو خدا دلیل ہیں ۸۷ وہ اک زباں ہے محضو نہانی ہے دوسرا ۸۸ ۸۹ ۹۰ ۹۱ ۹۲ ۹۳ ۹۴ ۹۶ ۹۷ ۹۸ ۹۹ وحی خدا اسی ره فرّخ ހނ وہ زندہ طاقتیں؛ جو یقیں کی سبیل ہیں ہے حدیث سیدنا سید الوری پاتے ہیں دلبر کا بانکپن بھی اسی سے دکھاتے ہیں ورنہ وہ ملت ، وہ رہ ، وہ رسم، وہ دیں؛ چیز کیا سایہ افگن جس پہ نورحق نہیں خورشید وار واہ رے جوشِ جہالت ؛ خوب دکھلائے ہیں رنگ جھوٹ کی تائید میں حملے کریں دیوانہ وار واہ رے باغ محبت؛ موت جس کی رہ گذر وصلِ یار اُس کا ثمر ؛ پر اردگرد اس کے ہیں خار وہ کتاب پاک و برتر ؛ جس کا فرقاں نام ہے وہ یہی دیتی ہے طالب کو بشارت بار بار وہ دکھاتا ہے؛ کہ دیں میں کچھ نہیں اکراہ و جبر دیں تو خود کھینچے ہے دل؛ مثل بُت سیمیں عذار وہ روشنی؛ جو پاتے ہیں ہم اس کتاب میں ہو گی نہیں کبھی وہ ہزار آفتاب میں وہ لگادے آگ میرے دل میں ملت کیلئے شعلے پہنچیں جس کے ہردم آسماں تک بیشمار وہ جو کہلاتے تھے صوفی ، کہیں میں سب سے بڑھ گئے کیا یہی عادت تھی شیخ غزنوی کی یادگار وحی حق کی بات ہے؛ ہو کر رہے گی بے خطا کچھ دنوں کر صبر؛ ہو کر متقی اور بُردبار وحی حق کے ظاہری لفظوں میں ہے وہ زلزلہ لیک ممکن ہے کہ ہو کچھ اور ہی قسموں کی مار وہ تباہی آئے گی؛ شہروں پہ اور دیہات پر جس کی دنیا میں نہیں ہے مثل کوئی زینہار