بیت بازی

by Other Authors

Page 254 of 871

بیت بازی — Page 254

254 ۲۷۷ ۲۷۸ ۲۷۹ ۲۸۰ اور عبدالحی کے استاد ۲۷ منجملہ تیرے فضل و کرم کے ہے یہ بھی ایک عیسی مسیح سا ہے دیا رہنما مجھے ۲۷۵ موسی کے ساتھ تیری رہیں لن ترانیاں زنہار میں نہ مانوں گا؛ چہرہ دیکھا مجھے ۲۷۶ مولوی صاحب مبارک آپ کو مہربانی کی تو اس پہ رکھ نظر کر عنایت اس پہ تو شام و سحر میاں اسحق کی شادی ہوئی ہے آج؟ اے لوگو! ہر اک منہ سے یہی آواز آتی ہے؛ مُبارک ہو میں اگلے شعر پر کرتا ہوں ختم اس نظم کو یارو! اب ان کے واسطے تم بھی خدا سے کچھ مدد مانگو مصطفی کا یہ غلام؛ اور وہ غلامِ موسیٰ دیکھ اورکس کا ہے دونوں میں سے درجہ بالا مثل ہوش اُڑ جائیں گے ؟ اس زلزلہ آنے کے دن باغ احمد پر جو آئے ہیں؛ یہ مُرجھانے کے دن مہدی آخر زماں کا ہوچکا ہے اب ظہور ہیں بہت جلد آنے والے؛ دیں کے پھیلانے کے دن مہدی آخر زماں کا کس طرح ہوگا ظہور جب نہ آئیں گے کبھی اس دیں کے اُٹھ جانے کے دن ۲۸۴ میں وہ کامل ہوں ؛ کہ سُن لے مرے اشعار کو گر پھینک دے جام کو؛ اور چھ سے مرے پاؤں کو جسم میں کسی بحر میں دکھلاؤں جو اپنی تیزی عرفی و ذوق کے بھی دست و زُباں ہوویں قلم مٹ گیا تیری عداوت کے سبب سے پیارے! کوئی لیتا نہیں اب دہر میں نام آتھم ۲۸۷ مال کیا چیز ہے؛ اور جاں کی حقیقت کیا ہے آبرو تجھ پہ فدا کرنے کو تیار ہیں ہم ۲۸۱ ۲۸۲ ۲۸۳ ۲۸۵ ۲۸۶ خُدا ہے کیا اس کا ہی نام اتقا ہے ۲۸۸ مامور دشمنی ۲۸۹ موسی کے غلام ۲۹۰ محمود خدائے لم یزل உ مسیحا ہاں ان ہمارا کام کیا ہے ہر وقت یہی میری دعا ہے ۲۹۱ میرے دوستو ! شرک کو چھوڑ دو تم ۲۹۲ ۲۹۳ کہ یہ سب بلاؤں سے بڑھ کر بلا ہے محبت سے کہتا ہے وہ تم کو ہر دم اُٹھو سونے والو! کہ وقت آگیا ہے مسیحا و مهدی دوران آخر وہ جس کے تھے تم منتظر آگیا ہے ۲۹۴ مقابل میں اس کے اگر کوئی آئے نہ آگے بچے گا؟ نہ اب تک بچا ہے ۲۹۵ مصیبتوں سے نکالتا ہے؛ بلاؤں کو سر سے ٹالتا ہے گلے کا تعویذ اسے بناؤ، ہمیں یہی حکم مصطفاً ہے