بیت بازی — Page 253
253 ۲۵۴ ۲۵۶ نہ ہو مگر سب اہل وطن یہ بھی سوچ لیں کہ کہیں لباس تقوی میں لیٹی یہ کوئی چال ۲۵۵ میرے وطن! مجھے تیرے اُفق سے شکوہ ہے کہ اس پر ثبت ہے عبدالسلام نام کا چاند ئے سی اُتر رہی تھی؛ کواکب سے نور کی ہر سمت بٹ رہی تھی؛ شراب طهور شب ۲۵۷ مجھ سے تم نظریں چرا لیتے بدن کجا کر پھر مجھے دیکھتے ایسے؛ کہ نہ دیکھا ہوتا ۲۵۸ میرے سب خواب بکھر جاتے سرابوں میں ؛ بس ایک عالم صحرا ہوتا میرے اس دنیا میں لاکھوں ہیں؛ مگر کوئی نہیں میرا تنہائیوں میں ساتھ نبھانے کیلئے ۲۵۹ ہر طرف پھیلا ہوا ۲۶۰ منصورہ لے کر آئی ہے اپنی بھولی بھالی بچی معجزہ ہے جو اک اللہ کا؛ اونچی قسمت والی بچی ماں اور باپ ہیں دونوں خوش؛ تہنیت ۲۶۱ ۲۶۲ ٢٦٣ ۲۶۵ خوش ہیں منصورہ کی کی ساس کرتی ہے پیش؛ کر سب کو اُردو کلاس ٹھک کر مسکراتا تھا ہمیشہ وہ نجیب ابن نجیب اس کے اخلاق نرالے تھے؛ ادا ئیں تھیں عجیب میں تمہیں مچھلی کھلاؤں گا تروتازہ چلو ہے ابھی تک کھلا فش شاپ کا دروازہ؛ چلو ۲۶۴ مجھ کو جو دکھ دیئے ہیں، نہیں تجھ سے کچھ گلہ میری دُعا یہی ہے؛ کہ تو شادماں رہے میں غم و الم کی موجوں سے اُلجھ رہا ہوں تنہا مجھے آکے دو سہارا؟ مجھے تھام لو خُدارا وہ جو ایک آرزو تھی؛ وہی کر گئی کنارا مجھے اذنِ مرگ دے کر ؛ وہ افق پہ چاند ڈوبا وہ مرا نصیب لے کر؛ کوئی بجھ گیا ستارا ۲۶۸ مجھے چھوڑ کر گئے ہو؟ میرا صبر آزمانے تو سُنو ! کہ اب نہیں ہے؛ مجھے ضبط غم کا یارا ۲۶۶ ۲۶۷ میری دل شکستگی پر مجھے غرق تم سمجھ کر ۲۹ مجھے کنگال کر گیا وہ شخص ۲۷۰ ۲۷۱ ۲۷۲ میرا تو بس کلام محمود وہی اثاثہ تھا مذہب میں ہر طرح ہمیں آزاد کر دیا چلتا نہیں سروں پہ کوئی جبر کا تیر مسیح دنیا کا رہنما ہے؛ غلام احمد ہے، مصطفی ہے بروز اقطاب وانبیاء ہے؛ خدا نہیں ہے، خدا نما ہے محمد میرے تن میں؛ مثل جاں ہے یہ ہے مشہور؛ جاں ہے، تو جہاں ہے P ۲۷۳ محمد کو برا کہتے ہو تم لوگ ہماری جان و دل؛ جس پر فدا ہے