بیت بازی

by Other Authors

Page 241 of 871

بیت بازی — Page 241

241 ۱۰ 11 ۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۵ ۱۶ ۱۷ ۱۸ ۱۹ ۲۰ ۲۱ ۲۲ ۲۳ مجھ کو ہلاک کرنے کو؛ سب ایک ہوگئے سمجھا گیا میں بد ؛ یہ وہ سب نیک ہو گئے میں تھا غریب و بیکس و گم نام و بے ہنر کوئی نہ جانتا تھا؟ کہ ہے قادیاں کدھر میں مفتری ہوں؟ اُن کی نگاہ وخیال میں دنیا کی خیر ہے؛ میری موت و زوال میں مومن ہی فتح پاتے ہیں؛ انجام کار میں ایسا ہی پاؤ گے سخن کردگار میں میں تو مر کر خاک ہوتا؛ گر نہ ہوتا تیرا لطف پھر خدا جانے؛ کہاں یہ پھینک دی جاتی غبار میں بھی ہوں تیرے نشانوں سے؛ جس کو مو نے کر دیا ہے؟ جہاں میں اک نشاں قوم دیں و کا افتخار میرے جیسے کو؛ جہاں میں، تو نے روشن کر دیا کون جانے اے مرے مالک ! تیرے بھیدوں کی سار میرے سقم و عیب سے اب کیجئے قطع نظر تانہ خوش ہو دشمنِ دیں؛ جس پہ ہے لعنت کی مار مجھ کو پردے میں نظر آتا ہے اک میرا معین تیغ کو کھینچے ہوئے اسپر؛ جو کرتا ہے وہ وار مفتری کہتے ہوئے؛ اُن کو حیا آتی نہیں کیسے عالم ہیں؛ کہ اس عالم سے ہیں یہ برکنار مُردہ ہو جاتے ہیں؛ اس کا کچھ نہیں دیتے جواب ذرد ہو جاتا ہے منہ؛ جیسے کوئی ہو سوگوار میری نسبت جو کہیں کہیں سے وہ سب پر آتا ہے چھوڑ دیں گے کیا وہ سب کو؛ کفر کر کے اختیار ، مجھ کو کافر کہہ کے؛ اپنے کفر پر کرتے ہیں مُہر یہ تو ہے سب شکل ان کی؛ ہم تو ہیں آئینہ دار میں تو آیا اس جہاں میں ؛ ابن مریم کی طرح میں نہیں مامور از بهر جهاد و کارزار موت سے گر خود ہو بے ڈر؛ کچھ کرو بچوں پہ رحم امن کی رہ پر چلو! بَن کو کرو مت اختیار ۲۵ میں تو تیرے حکم سے آیا؛ مگر افسوس ہے چل رہی ہے وہ ہوا؛ جو رخنہ انداز بہار منبروں پر اُن کے سارا گالیوں کا وعظ ہے مجلسوں میں ان کی ہر دم ؛ سبّ و غیبت کا روبار ملک سے مجھ کو نہیں مطلب نہ جنگوں سے ہے کام کام میرا ہے؛ دلوں کو فتح کرنا نے دیار ملک روحانی کی شاہی کی نہیں کوئی نظیر گو بہت دنیا میں گزرے ہیں امیر و تاجدار مغر فرقان مطہر کیا یہی زهد خشک کیا یہی چوہا ہے نکلا؛ کھود کر یہ کوہسار منہ کو اپنے کیوں بگاڑا؛ نااُمیدوں کی طرح فیض کے در کھل رہے ہیں؟ اپنے دامن کو پیار ۲۴ ۲۶ ۲۸ ۲۹ ۳۰ ہے