بیت بازی

by Other Authors

Page 208 of 871

بیت بازی — Page 208

208 کون چھوڑے خواب شیریں کون لے خار مغیلاں؛ پھولوں کے ہار چھوڑ کر کون چھوڑے اکل و شرب کام کیا عزت سے ہم کو شہرتوں سے کیا غرض گر وہ ذلت سے ہو راضی؛ اُس پر سو عزت نثار کوئی ره نزدیک تر راہِ محبت سے سے نہیں طے کریں اس راہ سے سالک ہزاروں دشت خار کیا یہی اسلام کا ہے دوسرے دینوں پہ فخر کر دیا قصوں پہ سارا ختم دیں کا کاروبار کس طرح کے تم بشر ہو؛ دیکھتے ہو صد نشاں پھر وہی ضد و تعصب اور وہی کین و نقار کام دکھلائے جو تُو نے میری نصرت کیلئے پھرتے ہیں آنکھوں کے آگے؛ ہر زماں وہ کاروبار کس طرح تو نے سچائی کو میری ثابت کیا میں ترے قرباں ! میری جاں تیرے کاموں پر شار کہتے ہیں یورپ کے ناداں؟ یہ نبی کامل نہیں وحشیوں میں دیں کو پھیلانا؛ یہ کیا مشکل تھا کار کیا تمہاری آنکھ سب کچھ دیکھ کر اندھی ہوئی کچھ تو اس دن سے ڈرو یارو! کہ ہے روزشمار کچھ تو سمجھیں بات کو؛ یہ دل میں ارماں ہی رہا واہ رے شیطاں! عجب ان کو کیا اپنا شکار کام جو دکھلائے اس خلاق نے میرے لئے کیا وہ کر سکتا ہے؛ جو ہو مفتری شیطاں کا یار کشتی اسلام بے لطف خدا؟ اب غرق ہے اے جنوں کچھ کام کر؛ بیکار ہیں عقلوں کے وار کیسے ہی وہ سخت دل ہوں؛ ہم نہیں ہیں نا اُمید آیت لاتینسوا رکھتی ہے دل کو استوار کچھ تو سوچو ہوش کر کے کیا یہ معمولی ہے بات جس کا چرچا کر رہا ہے؛ ہر بشر اور ہر دیار کیسے پتھر پڑگئے ؟ ہے ہے تمہاری عقل دیں ہے منہ میں گرگ کے تم گرگ کے خود پاسدار کون سی آنکھیں؛ جو اس کو دیکھ کر روتی نہیں کون سے دل ہیں؛ جو اس غم سے نہیں ہیں بیقرار کھا رہا ہے دیں تمانچے ہاتھ سے قوموں کے آج اک تزلزل میں پڑا اسلام کا عالی منار کیوں کریں گے وہ مدد؛ ان کو مدد سے کیا غرض ہم تو کافر ہو ہم تو کافر ہو چکے؛ ان کی نظر میں بار بار کہتے ہیں لوگوں کو ہم بھی زبدۃ الابرار ہیں پڑتی ہے ہم پر بھی کچھ کچھ؛ وحی کرحماں کی پھو ہار کچھ ہی ہو؛ پر وہ نہیں رکھتا زمانہ میں نظیر فوق عادت ہے؛ کہ سمجھا جائے گا روزشمار کب یہ ہوگا؟ یہ خدا کو علم ہے؟ پر اس قدر دی خبر مجھ کو؛ کہ وہ دن ہوں گے ایام بہار پر ۱۲۲ ۱۲۳ ۱۲۴ ۱۲۵ ۱۲۶ ۱۲۷ ۱۲۸ ۱۲۹ ۱۳۰ ۱۳۱ ۱۳۲ ۱۳۳ ۱۳۴ ۱۳۵ ۱۳۶ ۱۳۷ ۱۳۸ ۱۳۹ ۱۴۰ ۱۴۱ ۱۴۲