بیت بازی — Page 206
206 کریما! دُور کر تو ان سے ہر شر کرو کوشش؛ اگر صدق و صفا ہے کہا ہرگز نہیں ہوں گے برباد رحیما! نیک کر اور پھر معتمر یہ حاصل ہو جو شرط لقا ہے بڑھیں گے جیسے باغوں میں ہوں شمشاد کیا تضرع اور توبہ سے نہیں ٹلتا عذاب کس کی یہ تعلیم ہے؛ دکھلاؤ تم مجھ کو شتاب کروں کیونکر ادا کہ تیرا نام ہے کرم میں شکر باری فدا ہو اُس کی رہ میں عمر ساری غفار و ہادی فسبحان الذى اخزى الاعادي کہاں ہم؛ اور کہاں دنیائے مادی فسبحان الذى اخزى الاعادي سے تیرے دشمن ہوگئے مات عطا کیں تو نے سب میری مُرادات کہیں جو کچھ کہیں سر پر خدا ہے پھر آخر ایک دن روز جزا ہے کوئی اس پاک سے جو دل لگاوے کرے پاک آپ کو؛ تب اُس کو پاوے کہاں تک حرص و شوق مال فانی اُٹھو! ڈھونڈو متاع آسمانی کہاں تک جوش آمال و آمانی سو سو چھید ہیں تم میں نہانی کرو کچھ فکر ملک جاودانی ملک و مال جھوٹی کہانی ہے کرو تو به؛ کہ تا ہو جائے رحمت دکھاؤ جلد کر صدق و انابت کھڑی ہے سر پہ کہ یاد آجائے گی جس سے قیامت ایسی ایک ساعت کیا کیا نہ ہم نے نام رکھائے زمانہ سے مردوں سے نیز فرقہ ناداں زنانہ سے کام جو کرتے ہیں تیری رہ میں؛ پاتے ہیں جزا مجھ سے کیا دیکھا؟ کہ یہ لطف وکرم ہے بار بار کرم خاکی ہوں مرے پیارے! نہ آدم زاد ہوں ہوں بشر کی جائے نفرت؛ اور انسانوں کی عار کیا وہ سارے مرحلے طے کر چکے تھے علم کے کیا نہ تھی آنکھوں کے آگے کوئی رہ تاریک و تار کس کے آگے ہم کہیں اس درددل کا ماجرا اُن کو ہے ملنے سے نفرت؛ بات سننا در کنار کیا کروں، کیونکر کروں ، میں اپنی جاں زیروز بر کس طرح میری طرف دیکھیں؛ جو ر کھتے ہیں نقار کچھ خبر لے تیرے کوچہ میں یہ کس کا شور ہے خاک میں ہوگا یہ سر؛ گر تو نہ آیا بن کے یار ۷۹ ۸۰ ۸۲ ۸۳ ۸۴ ۸۵ ۸۶ AL ۸۸ ۸۹ ۹۰ ۹۱ ۹۲ ۹۳ ۹۴ ۹۵ ۹۶ ۹۷ ۹۸ ۹۹