بیت بازی — Page 200
200 ۳۱ ۳۲ ۳۳ کلام طاهر قریہ قریہ فساد ہوئے تب ؛ فتنہ گر آزاد ہوئے سب احمدیوں کو بستی بستی، پکڑا دھکڑا، مارا گوٹا قافلے درد کے پا جاتے ہیں منزل کا سُراغ اک لرزتی ہوئی کو دیکھ کے ویرانوں میں قفس کے شیروں سے کرتے ہو روز دو دو ہاتھ دو آنکھیں بن کے تیر سے بھی چار کر دیکھو قبروں میں پڑے عرش نشینوں کی قسم ہے رولے ہوئے مٹی میں نگینوں کی کی قسم ۳۵ قسمت کو دیکھئے! کہ کہاں ٹوٹی جا کمند حلوه قریب دہن ہی آیا تھا؛ گر گیا قبلہ بھی تو ہے، قبلہ نما بھی تیرا وجود شان خدا ہے؛ تیری اداؤں میں جلوہ گر ۳۴ ۳۶ ۳۹ ۴۰ ۴۱ ۴۲ کلام محمود ہے ۷ قاضی و مفتی بھی کھو بیٹھے تھے اپنا ایماں رحم و انصاف کے وہ نام سے بھی تھے انجاں قوم انگلش ! تیری ہر فرقے پہ ہے ایک نظر اس لئے تجھ پہ ہمیں ناز ہے سب سے بڑھ کر قیصر روم کے محکوم تھے؛ اک دو صوبے تاج انگلشیہ پر ممکن نہیں؛ سُورج ڈوبے قیامت ہے؛ کہ وصالِ یار میں بھی رنج فرقت ہے میں اُس کے پاس رہ کر بھی ؛ ہمیشہ دور رہتا ہوں قطب کا کام دو تم؛ ظلمت و تاریکی میں بھولے بھٹکوں کیلئے راہنما ہو جاؤ قدم اُس کے ہیں؟ شرک کے سر کے اوپر علم ہر طرف اُس کا لہرا رہا ہے قوم کے بغض و عداوت کی نہیں پروا ہمیں وقت یہ گٹ جائے گا؛ فضل خُدا ہو جائے گا ہجر ؛ ذرا ہوش میں آئوں تو کہوں بات لمبی ہے یہ؛ سر پیر جو پائوں تو کہوں قربان کر کے جان؛ دُوئی کا مٹاؤں نام وہ خواب میں ہی آگے؛ جو مجھ سے دوچار ہوں قسمت یونہی بدنام ہے دل خود اسیر دام ہے اب کس جگہ اسلام ہے؛ باقی فقط اک نام ہے ہے نہ اُس کے کام ہیں باقی؛ نہ اُس کی خُو باقی قلوب صافیہ ہوتے ہیں مہبطِ انوار کبھی بھی دیکھی ہے رنج و ملال میں برکت ۴۳ ۴۴ ۴۶ ۴۷ ۴۸ ۴۹ ۵۰ قصه قرون اولیٰ کے مسلم کا نام نام باقی۔قصر کفر و ضلالت و بدعت تیرے ہاتھوں سے ہوگا اب برباد قریب تھا کہ میں گر جاؤں بارعصیاں سے بنا ہے لیک عصا؛ لا إله إلا الله