بیت بازی

by Other Authors

Page 166 of 871

بیت بازی — Page 166

166 ۹۴ ۹۵ ۹۶ ۹۷ ۹۹ 1+1 ساتھیو! میرے ساتھ ساتھ رہو قربتوں کا بستی لئے پیام؛ چلو سینے سے لگا لینے کی حسرت نہیں مٹتی پہلو میں بٹھانے کی تڑپ حد سے سوا ہے سدا کی رسم ہے؛ ابلیسیت کی بانگِ زبوں انا کی گود میں پل کر اباء سے اُٹھی ہے سادہ اور غریب تھی جنا، لیکن نیک نصیب تھی جنتا فیض رسان عجیب تھی جنا؛ ہر بندہ، بندہ پرور تھا ۹۸ سچے لوگ تھے کچی بستی؛ گرموں والی اُچی بستی جو اونچا تھا، نیچا بھی تھا، عرش نشیں تھا ، خاک بسر تھا سدا سہاگن رہے جس سے نور کے سوتے پھوٹے، جس میں پیدا ہوئی وہ ہستی جو نوروں کا اک ساگر تھا ۱۰۰ سکھ بانٹتے پھرتے تھے؛ مگر کتنے دکھی تھے بے چارگی غم میں بچاروں کے سہارے جہانوں کیلئے بن کے جو رحمت آیا سب ہر زمانے کے دُکھوں کا ہے مداوا؛ وہی ایک سوار لاؤ، پیارے بڑھاؤ چڑھ دوڑو جو بن سکے وہ پئے کار زار کر دیکھو سینوں پر رقم ہیں تیری عظمت کے فسانے گاتی ہیں زبانیں تری سطوت کے ترانے سوائے اس کے کہ وہ شخص احمدی کہلائے تو سانس لینے کی بھی اس کو یاں مجال نہ ہو سلام کر کے دعائیں نہ دو ہمیں؛ ہم لوگ وہ لوگ ہیں کہ ترستے ہیں بد دعا کیلئے سوچا بھی کبھی تم نے کہ کیا بھید ہے ملاں کیوں تم سے گھن آتی ہے؛ اچھے نہیں لگتے سب جاگ اُٹھے تھے پیار کے ارماں تہ نجوم پھونکا تھا کس نے گوش محبت میں صورشب ۱۰۸ سوندھی سوندھی باس وطن کی مٹی میں سے اٹھے تب سب نوحے بھول کے وہ بس راگ ملن کے گائے ۱۰۹ سلطان کی ملکہ بنو؛ سلطان تمہارا سرتاج ہو ہر آن؛ خدا حافظ و ناصر ۱۰۲ ۱۰۳ ۱۰۴ ۱۰۵ 1+4 ۱۰۷ 11۔کلام محمود سینکڑوں عیب نظر آتے تھے جن کو اس میں وہ بھی اب عاشقِ قرآن ہوئے جاتے ہیں سجدہ کناں ہوں در پہ ترے؛ اے مرے خدا! اُٹھوں گا ؟ جب اُٹھائے گی، یاں سے قضا مجھے ۱۱۲ سلطنت میں بھی تزلزل کے نمایاں تھے نشاں صاف ظاہر تھا؛ کہ ہے چند دنوں کی مہماں سلطنت کچھ تو انہی باتوں سے بے جان ہوئی کچھ لٹیروں نے غضب کر دیا؛ آفت ڈھائی ۱۱۳