بیت بازی — Page 167
167 ۱۱۴ ۱۱۵ ۱۱۶ 112 ۱۱۸ ۱۱۹ ۱۲۰ ۱۲۱ ۱۲۲ ۱۲۳ ۱۲۴ ساتھ لائے یہ ہزاروں نئی ایجادیں بھی جو نہ کانوں تھیں سُنی ؛ اور نہ آنکھوں دیکھی سب جو آپس میں ہیں؟ یوں ہو رہے شیر وشکر اس لئے ہے؟ کہ نظر سب پہ ہے اُن کی یکسر سارے گندوں سے ہے پاک؛ اور ہے واحد یکتا نہ وہ تھکتا ہے، نہ سوتا ہے؛ نہ کھاتا پیتا سلسلے ہر جگہ تعلیم کے جاری ہیں کیسے شہروں اور گاؤں میں اسکول بکثرت کھولے سختیوں سے، قوم کی ؛ گھبرا نہ ہرگز ، اے عزیز! کھا کے یہ پتھر ؟ تو لعل بے بہا ہو جائے گا سچ کہوں گا؛ کہ نہیں دیکھی یہ خوبی ان میں چہرۂ یوسف و انداز زلیخا دیکھا سب شعر و شاعری کے خیالات اُڑ گئے سب لطف ؛ ایک بات میں ہی کر کرا ہوا سارا جہاں میرے لئے تاریک ہوگیا جو تھا مثال سایہ مجھ سے جدا ہوا سینہ سے اپنے پھر اُسی مہ رُو کو لو لگا پھر دل میں اپنے؛ یادِ خُدا میہماں کرو سخت ڈرتا ہوں میں اظہارِ محبت کرتے پہلے اس شوخ سے میں عہدِ وفا لوں ؛ تو کہوں ساقی ہو، کے ہو، جام ہو؛ ابرِ بہار ہو اتنی پیوں کہ حشر کے دن بھی خُمار ہو ۱۲۵ سنتے ہیں؛ بعد مرگ ہی ملتا ہے وہ صنم کرنے کے بعد ہو جو ہمارا سنگار ہو ۱۳۹ سرد مہری سے جہاں کی؛ دل ہے سرد گرمی تاثیر گرمی تاثیر سے گرمائے کون سرخرو رُو بروئے داور محشر ہو جاؤ کاش تم حشر کے دن؛ عہدہ برآ ہو جاؤ سختیوں سے ہی ؛ جو جاگے گی، تو جاگے گی یہ قوم اے نبی ! ہرگز نہیں یہ تلوے سہلانے کے دن ساری باتیں ہوئی ہیں پوری؛ دلوں میں اب بھی رہے جو ڈوری؛ نہیں کوئی بھی رہی ادھوری تو اس میں اپنا قصور کیا ہے سچ سچ کہو! خُدا سے ذرا ڈر کے؛ دو جواب کیا تم کو انتظار نہ تھا؛ پاسبان کا سینہ سپر ہوا یہ مقابل میں کفر کے خطرہ نہ مال کا ہی کیا؛ اور نہ جان کا سب دشمنان دیں کو ؛ اُنھوں نے کیا ذلیل بخشی ہے رب عز وجل نے؛ وہ عزب وشاں ١٣٣ سُنا ہے خواب میں ممکن ہے رویت جاناں میں منتظر ہوں ؛ کہ وہ اب مجھے سلا ئیں گے کب وہی کرتا ہے؛ اس کی پاسبانی ۱۲۷ ۱۲۸ ۱۲۹ ۱۳۰ ۱۳۱ ۱۳۲ ۱۳۴ سو سیر بنا ہر ناتواں کی ہے 509