بیت بازی — Page 125
125 ۳۴ ۳۵ ۳۶ ۳۷ ۳۸ ۳۹ ۴۰ ۴۲ ۴۳ م بم خیرگی بدگمانی اس قدر اچھی نہیں ان دنوں میں؛ جبکہ ہے شور قیامت آشکار خاکساری کو ہماری دیکھ؛ اے دانائے راز ! کام تیرا کام ہے؛ ہم ہوگئے اب بے قرار خون سے مردوں کے کوہستان کے آب رواں سرخ ہو جائیں گے؛ جیسے ہو شراب انجبار خوب کھل جائے گا لوگوں پہ کہ دیں کس کا ہے دیں پاک کر دینے کا تیرتھ ؛ کعبہ ہے یا ہردوار خدا سے وہی لوگ کرتے ہیں پیار جو سب کچھ ہی کرتے ہیں اس پر نثار دُرٌ عَدَن خاک ہی کرتی پاک بھی ہے؟ ہے مل مل کے یہیں دل دھوتے ہیں خالق مٹی ޏ گھڑتا ہے؛ مٹی میں رہنا پڑتا دلبرم امروز هر زبان گوید خوشا زمان که سر دلم زمان گوید ختم ہیں تجھ پر جہاں کی شوخیاں عیاریاں کیسے کیسے تو نے عیاروں کو نالاں کر دیا خدا کے کرم پھٹکنے نہ پائے رہے دُور ہی تم سے شیطان طیب خدا سے دعا ہے؛ کہ بن جائے اس کی میری پیاری طیب؛ میری جان طيب خوشا نصیب! کہ تم قادیاں میں رہتے ہو دیار مهدی آخر زماں میں رہتے ہو خالق ہر دو جہاں کی رحمتیں ہوں آپ پر والسلام اے شاہ دیں؛ اے رہنمائے قادیاں خیریت سے آپ کو اور ساتھ سب احباب کو جامع المتفرقين؛ جلدی سے لائے قادیاں ۴۷ خدا نے بخشی ہے 'الدار کی نگہبانی اسی کے حفظ؛ اسی کی اماں میں رہتے ہو خالق الخلق ربى الاعلى حیی و قیوم ؛ ۴۵ ۴۶ ۴۸ ۴۹ ۵۱ ۵۲ ۵۳ الموتى خوب بھڑ کی آگ؛ عالم بن گیا دارالفساد ابتداء سے کام ہے ہیزم کشی کفار کا خوف ہے مجھ کو ؛ کہ لگ جائے نہ اشکوں کی جھڑی آج میرا مطلع دل پھر غبار آلود ہے مجھ کو؛ خلقتِ اِنس میں ہے اُنس و محبت کا خمیر گر محبت نہیں؛ بیکار ہے انساں ہونا خلق اس معصوم کا اس کی ادائیں دل نشین بھولنا چاہیں بھی گر تو بھولنا ممکن نہیں خدایا! میں ناچیز بندی ہوں تیری میں جو مانگتی ہوں؟ مجھے وہ دلا دے