بیت بازی

by Other Authors

Page 124 of 871

بیت بازی — Page 124

124 ۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۵ ۱۶ ۱۷ ۱۸ ۱۹ ۲۱ ۲۲ ۲۳ ۲۴ ۲۵ ۲۶ ۲۸ خود میرے کام کرنا یارب! نه آزمانا به روز کر مبارک سبــــــــــان مــــن یـــرانـــی خدایا! اے مرے پیارے خدایا! کیسے ہیں تیرے مجھ پر عطایا خدا نے چار لڑکے اور عطاء کی؛ پس احسان ہے سراسر خدایا! تیرے فضلوں کو کروں یاد بشارت تو نے دی؛ اور پھر یہ اولاد خبر مجھ کو تو نے بارہا دی فسبحان الذى اخزى الاعادي خدا نے ان کی عظمت سب اڑا دی فسبحان الذى اخزى الاعادي خدا نے اپنی رہ مجھ کو بتا دی فسبحان الذى اخزى الاعادي خدا نے اک جہاں کو سنا دی فسبحان الذى اخزى الاعادي خدا نے روک ظلمت کی اٹھا دی فسبحان الذى اخزى الاعادي خدا کی ایک بھی تم نے نہ مانی ذرا خدا نے پھر تمہیں اب ہے بلایا سوچو! یہی سوچو عت زندگانی ؟ ہے خیر البرايا خدا عیسی کو کیوں مُردوں سے لاوے وہ خود کیوں مہر ختمیت مٹاوے خدا کا ہم پہ بس لطف و کرم ہے وہ نعمت کون سی باقی؛ جو کم ہے خوانِ تہی پڑا ہے؛ وہ نعمت نہیں رہی دیں بھی ہے ایک قشر، حقیقت نہیں رہی خاکساری ہم نے لکھا ہے نہ تو سختی نہ کوئی شدت ہے ۲۷ خوبوں کے حسن میں بھی اسی کا وہ نور ہے کیا چیز حسن ہے؛ وہی چمکا حجاب میں خوش خوش عمل ہیں کرتے اوباش سارے اس پر سارے نیوگیوں کا اک آسرا یہی ہے خدا رسوا کرے گا تم کو؛ میں اعزاز پاؤں گا سنو اے منکرو! اب یہ کرامت آنے والی ہے خدا ظاہر کرے گا اک نشاں پر رعب و پُر ہیبت دلوں میں اس نشاں سے استقامت آنے والی ہے خدا کے پاک بندے ؛ دوسروں پر ہوتے ہیں غالب مری خاطر؛ خدا سے یہ علامت آنے والی ہے خدمت دیں کا تو کھو بیٹھے ہو بغض و کیں سے وقت اب نہ جائیں ہاتھ سے لوگو! یہ پچھتانے کے دن خیر خواہی میں جہاں کی خوں کیا ہم نے جگر جنگ بھی تھی صلح کی نیت سے اور کیس سے فرار ۳۰ ۳۱ ۳۲ ۳۳