بیت بازی

by Other Authors

Page 844 of 871

بیت بازی — Page 844

844 وہ معرفت؛ شمس دُنیائے جو چمک رہا تھا کبھی فلک خُدا کے بندوں کی عفلتوں سے؛ پر وہ دلدلوں میں پھنسا ہوا ہے وہ علم دے؛ جو رکتابوں سے بے نیاز کرے وہ عقل دے؛ کہ دو عالم میں سر فراز کرے وہ بھر دے جوش بگوں میرے سر میں اے مولیٰ ! جو آگے بڑھ کے در وصل پھر سے باز کرے وہ دن کہ جب آئے گی مصیبت آنکھوں میں ہماری گھومتا آئے گا وہ آگے جو کیا ہے ورنہ ابھی غافلو! تمہارے ہے وہ مطلع آبدار لکھوں ؟ کہ جس سے حستاد کا ہو دل خوں حروف کی جاگہر پروؤں؛ کہ مجھ کو کرنا یہی روا ہے ؛ وہ اسلام؛ دنیا کا تھا جو محافظ وہ خود آج محتاج؛ امداد کا ہے وہ جا جہاں پہ ہوتی تھی ہر روز لوٹ مار ہر طرح اس جگہ پر اب امن وامان ہے مگر دشوار ہے وہ تو بے پردہ ہے؛ پر آنکھیں ہیں بند کام آساں ہے؛ وہی ہے راحت و آرام دل کا اُسی روح کو ہے شادمانی 'ہ' سے 'ی' 'ہ' سے شروع ہو کر'ی' پرختم ہونے والے اشعار ) تعداد كُل اشعار در ثمين 135 30 16 23 66 در عدن كلام طاهر کلام محمود i := iii iv ۸۲ ۸۳ ۸۴ ۸۵ ۸۶ ۸۸ ۸۹ ٩٠ ۹۱