بیت بازی

by Other Authors

Page 843 of 871

بیت بازی — Page 843

843 บ ۶۲ ۶۳ ۶۴ ۶۶ ۶۷ ۶۸ ۶۹ <• اے ۷۲ ۷۳ ۷۴ ۷۵ ہے وہ کیسائر ہے؛ جو جھٹکتا ہے آگے ہر کہ ومہ کے وہ کیسی آنکھ ہے؛ جو ہر جگہ دریا بہاتی وفا! تجھ سے مری شہرت نہیں؛ برعکس ہے قصہ تیری ہستی ، تو مجھ سے ہے؟ نہ میں ہوتا، نہ تو ہوتی 22 ZA ور دشت عارضی ہے ورنہ حضور کہیں بندہ فرار رہتا ہے وہ پیڑ ہو رہے تھے جو مدت سے چُوب خشک پڑتے ہی ایک چھینٹا؛ دُلہن سے نکھر گئے وہ خوش قسمت ہیں جو گر پڑ کے اُس مجلس میں جاپہنچے کبھی پائیوں پہ سر رکھا؟ کبھی دامن سے جالیئے وہ آپ سُرخ ہیں گویائی پر آمادہ پھر سخت ارزاں مئے گلفام ہوئی جاتی ۸۰ ΔΙ ہے ہے وہ میرا ہے تا ابد ؛ میں ہوں اُسی کا ازازل مجھ کو کیا خوروجناں سے؛ وہ مرا مقصود قائم ہے؛ ہر ایک کا آسرا ہے وہ زندہ ہے؛ اور زندگی بخشتا ہے وہ وہ دل مجھے عطا کر جو ہو نثار جاناں جو ہو فدائے دلبر؛ وہ جان مجھ کو دے دے وہ یار کیا؟ جو یار کو دل سے اُتار دے وہ دل ہی کیا؛ جو خوف سے میدان ہاردے وہ سیم تن جو خواب میں ہی مجھ کو پیار دے دل کیا ہے؛ بندہ جان کی بازی بھی ہاردے وحشت سے پھٹ رہا ہے مرا سر میرے خُدا! اس بے قرار دل کو ذرا تو قرار دے وہ کیا صورت ہے، جس سے میں نگاہ لطف کو پاؤں چھوؤں دامن کو تیرے یا تیرے پاؤں پڑوں ساقی وہ مہ رخ آگیا خود پاس میرے لگائے چاند مجھ کو بے بسی نے وہ آنکھیں؛ جو ہوئیں اُلفت میں بے نور بنیں وہ اُس کی اُلفت کے نگینے وہی ہیں غوطہ خور بحرِ ہستی دار سے ہیں بھرے جن کے سفینے کریں بے وفائی! اے تو بہ آپ کے ہی خیال ہیں ایسے وہ مُنہ چھپائے ہوئے مجھ سے ہم کلام ہوئے وصال گو نہ ہوا؟ خیر کچھ ہوا تو سہی وہ آپ خود چلے آئیں گے تیری مجلس میں خودی کے نقش ذرا دل سے تو مٹا تو سہی وہ کہاں، اور ہم کہاں پر رحم آڑے آگیا رہ گئی عزت ہمارے نالہ دلگیر کی وہ زشت رو؛ کہ جس سے چڑیلیں بھی خوف کھائیں اُس کو بھی دیکھئے؛ کہ تمنائے گور ہے وہ