بیت بازی

by Other Authors

Page 842 of 871

بیت بازی — Page 842

842 ۴۲ ۴۳ ۴۴ ۴۶ ۴۷ وہ آیا ساتھ لے کر فضل آیا بصد اکرام ودیعت کر کے انعام محبت دو جهانی شاه محبت جو اپنی کھینچتا ہے کلام طاهر وہی رونا ہے ہجر یار میں؛ بس فرق ہے اتنا کبھی چھپ چھپ کے آتا تھا؛ اب آزادانہ آتا ہے ۴۵ وہ نفرت کا طوفان اُٹھا؛ ہر شہر سے امن وامان اُٹھا جلب زر کا شیطان اُٹھا؛ مفلس کے سہارے ڈوب گئے وہ آنکھ اُٹھی تو مُردے جگا گئی لاکھوں قیامت ہوگی؛ کہ جو اس ادا سے اُٹھی ہے وہی جھرنوں کے مدھر گیت ہیں؛ مد ہوش شجر نیلگو زود کے؛ گل یوش کنارے ہیں وہی وہ ناؤ؛ خدا بنتا ہے خود، جس کا کھویا پاگل ہے؛ کہ ڈھونڈے وہ کناروں کے سہارے بہتے ہوئے خاموش حرفوں کے بدن اشکوں کے دھاروں کے سہارے جھٹکتے ہوئے کہنا دَمِ رخصت میں نے نہیں جینا نگہداروں کے سہارے وہ جن کو نہ راس آئے طبیبوں کے دِلاسے شاید! کہ بہل جائیں؛ نگاروں کے سہارے و ڈیاں سوچاں نیک عمل ؛ تے عالی شان ارادے گل وچ پائی پھر دا سادے، ماڑے موٹے ٹلے ۴۸ ۴۹ ۵۱ ۵۲ ۵۳ ۵۴ ۵۵ ۵۶ وہ وہ آخری ایام؛ ہاتھ وہ وہ مولیٰ سے ملواتا ہے؛ جب نام اس کا میں لیتا ہوں وہ اک بحر نور کی موجوں پر اک نور کی کشتی کھیتا ہوں اے جنگ والو! سُن لو! میرے مرشد کا نام محمد ہے انوار رسالت ہیں؛ جس کی چمن آرائی پاک محمد ہے؛ ہم سب کا حبیب آقا وہی جلسے، وہی رونق وہی بزم آرائی ایک تم ہی نہیں؛ مہمان تو سارے، ہیں وہی وہ جوان برق پا ہے؛ وہ جمیل و دلربا ہے میرا نالہ اُس کے قدموں کے غبار تک تو پہنچے وقت ہے وقتِ مسیحا نہ کسی اور کا وقت کون ہیں یہ تیری تحریر مٹانے والے ۵۸ وہی ۵۹ ۶۰ کلام محمود تسکیں حالت درد نہانی ادبار ہے ہے چارۀ آلام ظاهر وہی واں تھے وعدے خوب تر یاں وہ گاؤں گا تیری تعریف میں ترانہ حمد گا ساز ہی باقی نہ پھر گلو باقی رہے