بیت بازی

by Other Authors

Page 841 of 871

بیت بازی — Page 841

841 وہ انس و شوق و وجد؛ وہ طاعت نہیں رہی ظلمت کی کچھ بھی حد نہایت نہیں رہی وہ جو ماہ فروری میں تم نے دیکھا زلزلہ تم یقیں سمجھو کہ وہ اک زجر سمجھانے کو ہے وہ نشاں؛ جس کی روشنی سے جہاں ہو کے بیدار؛ ہو گیا لرزاں مشکلوں کا یارو! مشکل کشا یہی ہے وہ دلستاں نہاں ہے؛ رکس رہ سے اُس کو دیکھیں ان ویدوں کا سب خلاصہ؛ ہم نے نیوگ پایا ان پیستکوں کی رُو سے؛ کارج بھلا یہی ہے یدوں کو شرم کر کے تم نے بہت چھپایا آخر کو راز بستہ اُس کا کھلا یہی ہے وہ دن گئے؟ کہ راتیں کٹتی تھیں کر کے باتیں اب موت کی ہیں گھاتیں، غم کی کتھا یہی ہے وہ دلیر نہانی دیکھا ہے ہم نے اُس سے ؛ بس رہ نما یہی خزانہ باقی ہے سب فسانہ؛ سچ بے خطا یہی ہے کہ عاجز ہو بنانے جسم و جاں سے وہ یار لامکانی؛ وہ دلیر یگانہ علموں کا ہے وہ نا کامل خدا ہوگا کہاں ہے وہ دن بھی ایک دن تمہیں یارو! نصیب ہے خوش مت رہو؛ کہ گوچ کی نوبت قریب ہے وہ رہ؛ جو یار گمشدہ کو کھینچ لاتی ہے وہ رہ؛ جو جام پاک یقیں کا پلاتی ہے وہ رہ؛ جو یار گمشدہ کو ڈھونڈ لاتی ہے وہ رہ؛ جو جام پاک یقیں کا پلاتی ہے وہ کرہ؛ جو اس کے ہونے پر محکم دلیل ہے وہ رہ؛ جو اُس کے پانے کی کامل سبیل ہے وہ اک زباں ہے عضو نہانی ہے دوسرا تہ ہے؛ حدیث سیدنا سید الوری وہ پیشوا ہمارا جس سے ہے نور سارا نام اس کا ہے محمد دلبر میرا یہی ہے ودر عدن وہ سچا اور نچے عہد والا جو منہ کہہ چکا؛ وہ کر رہا ہے وہ لڑے تیرے لئے؛ اور تو آزاد رہے خوب نکتہ ہے یہ اللہ کرے یاد رہے وہ محبوب تیرا؛ ہمارا خلیفہ بہت دن سے بیمار ہے؛ اب شفادے تو بھی انساں کہلاتی ہے سب حق تیرے دلواتا ہے؛ فلموں چھڑوا تا ہے وہ رحمت عالم آتا ہے؛ تیرا حامی ہو جاتا ہے ان ۲۲ ۲۳ ۲۴ ۲۶ ۲۷ ۲۸ ۲۹ ۳۰ ۳۱ ۳۲ ۳۳ ۳۴ ۳۵ ۳۶ ۳۷ ۳۸ ۳۹ ۴۰ ۴۱