بیت بازی — Page 840
840 وہ رہ؛ جو ذاتِ عز وجل کو دکھاتی در ثمین ہے وه ره؛ جو دل کو پاک و مطہر بناتی ہے وہ آج شاہ دیں ہے؛ وہ تاج مرسلیں ہے وہ طیب و امیں ہے؛ اس کی ثناء یہی ہے وہ نہیں باہر رہا اموات ہو گیا ثابت؛ یہ تمہیں آیات سے Y Λ ہے وہ بنتی ہے ہوا، اور ہر کس رہ کو اُڑاتی وہ ہو جاتی ہے آگ ؛ اور ہر مخالف کو جلاتی ہے ہو جاتے ہیں سارے دلدار کے نہیں اُن کا کوئی بجز یار کے ہے مگر دل میں اک خواہش سیر ہے وہ وہ رو دیتا کہہ کر کہ سب خیر وہ ناداں جو کہتا ہے در بند ہے وہ انکار کرتے ہیں الہام کوچه مسدود کہتے ہیں؛ وہ غافل ہیں رحماں کے اُس داب سے و وہ 1۔۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۵ ۱۶ ۱۷ ΙΑ ۱۹ ۲۱ وہ لکھا ہے خود پاک کرتار نے ہے نہ پیوند ہے نہ الہام ہے؛ اور کہ ممکن نہیں خاص اور عام سے تلاش اس کی عارف کو بے سود ہے کہ رکھتا ہے وہ اپنے احباب سے اُسی حیی و قیوم و غــفــــــار نے واللہ خوشی سے بہتر ، غم سے تیرے گذرنا یہ روز کر مبارک سبــــحـــــان مـــــن یـــرانـــی وہ دے مجھ کو، جو اس دل میں بھرا ہے زباں چلتی نہیں؛ شرم و حیا ہے وہ ہوں میری طرح دیں کے منادی فسبحان الذى اخزى الاعادي دشت دوادی فسبحان الذى اخزى الاعادي دیکھے نیستی؛ رحمت دکھاوے خودی اور خودروی کب اس کو بھاوے وہ ہو آواره ہر وہی مئے اُن کو ساقی نے پلادی فسبحان الذى اخزى الاعادي وہ وہ نام وہ نمود؛ دولت نہیں رہی علم، وہ صلاح؛ وہ عفت نہیں رہی وہ وہ عزم مقبلانہ ہمت نہیں رہی وہ وہ نور؛ اور وہ چاند سی طلعت نہیں رہی وہ درد، وہ گداز، وہ رقت نہیں رہی خلق خدا شفقت و رحمت نہیں رہی وہ علم و معرفت؛ وہ فراست نہیں رہی وہ فکر، وہ قیاس؛ قیاس؛ وہ حکمت نہیں رہی