بیت بازی

by Other Authors

Page 829 of 871

بیت بازی — Page 829

829 ااا ۱۱۲ ۱۱۳ ۱۱۴ ۱۱۵ ۱۱۶ 112 ۱۱۸ مگر خُدائے رحیم و رحماں جو اپنے بندوں کا ہے نگہباں جو ہے شہنشاہ جن وانساں؛ جو ذرہ ذرہ کو دیکھتا ہے مسیح دوراں ہمشیل عیسی ، بجا ہے دنیا میں جس کا ڈنکا خُدا سے ہے پا کے حکم آیا ملا اُسے منصب طد کی ہے مقابلہ میں جو تیرے آیا؛ نہ خالی بیچ کر کبھی بھی لوٹا یہ ڈبہ یہ دیکھ کر مسحا؛ جوکوئی حاسد ہے ، جل رہا ہے مقدر اپنے حق میں عرب وشاں ہے جو ذلت ہے؛ نصیب دشمناں ہے ہے قادیان؛ دار الاماں جاکر مریض عشق تیرا نیم جاں ہے مسیحائے زماں کا یاں مکاں ہے زمین مسیحا سے کوئی کہہ رو مخالف اپنے ہیں گو زور مرا ڈوگی وم معجز نما آج مگر ان پر مگر ان سے قوی تر پاسباں ہے عیسی کی صداقت کا نشاں ہے ނ ۱۹ مسلمانوں کی بدحالی کے غم میں ۱۲۰ ۱۲۱ ۱۲۲ ۱۲۳ ۱۲۴ ۱۲۵ ۱۲۶ دھرا سینہ پر اک سنگِ گراں ہے میرا دل اُس نے روشن کردیا ہے اندھیرے و خطر کچھ ہو قربان احمد ذره مسیحا کو نہیں خوف میرا ہر مزه دو بار پہلے چکھ چکے میرے دل پر رنج و غم کا ہو کا بار ہے حمایت گھر کا میرے؛ وہ دیا ہے مثلا اُس کی خُدا ہے پر میرے دل کا یہی اک مدعا ہے مگر پھر بھی وہی طرز ادا ہے ہاں! خبر لیجے! کہ حالت زار ہے میرے دشمن کیوں ہوئے جاتے ہیں لوگ مجھ سے پہنچا اُن کو کیا آزار ہے میری غم خواری سے ہیں سب بے خبر ہے میرے درپئے آزار ۱۲۷ میری کمزوری کو مت دیکھیں؛ کہ میں دیکھیں کہ میں جس کا بندہ ہوں؟ بڑی سرکار ہے ۱۲۸ ۱۲۹ ۱۳۰ ہے قلب کو ملتی جلا ہے ہو کو ہمیں یادِ خُدا کی دیتا ہے سب زنگوں کو دل سے اسی محبت تیری دل میں جاگزیں ہو لگی ملتی نہیں نہیں ہے جام بس اک ہے یہی آزار ہے ملا ہوں خاک میں؛ باقی رہا نہیں کچھ بھی مگر ہے دل میں میرے اُن کی جستجو باقی مری تدبیر جب مجھ کو مصیبت میں پھنساتی ہے تو تقدیر الہی آن کر اُس سے چھڑاتی ہے ۱۳۱ ۱۳۲