بیت بازی — Page 827
827 ؛ ۷۵ میں اُن سے جد اہوں ، مجھے کیوں آئے کہیں چین دل منتظر اُس دن کا؛ کہ ناچے انہیں پاکے میرے آنسو تمہیں دیں رم زندگی میہماں کو ملے جو دم زندگی؟ دُور تم کریں ہر غم زندگی وہی امرت بنے، میزباں کیلئے حبیب کیا ایک انہی کو دُکھ دیتی ہے؛ 24 2^ مرے بھولے بھالے لمیے عرصوں کی؟ ے مجھے لکھ لکھ کر کیا سمجھاتے ہیں جدائی میری ایسی بھی ہے ایک رُودادِ غم دل میں وہ بھی ہے اک گوشئہ محترم؛ دل کے پردے پر ہے خون سے جو رقم وقف ہے جو غم دوستاں کیلئے میری بھی آرزو ہے؛ اجازت ملے تو ، میں اشکوں سے اک پروؤں غزل؛ آپ کیلئے ۸۰ مژگاں بنیں حکایت دل کیلئے قلم ہو روشنائی آنکھوں کا جل؛ آپ کیلئے میں آپ ہی کا ہوں؟ وہ میری زندگی نہیں جس زندگی کے آج نہ کل؛ آپ کیلئے معاہد سے مٹاکر کلمہ توحید؛ آئے دن شریروں کو عباداللہ کا دل برمانا آتا ہے ۷۹ ΔΙ ۸۲ معابد ۸۳ ۸۴ ۸۶ مرے دل کے افق ر ڈوب چکے ہیں؛ ہے لاکھوں چاند ستارے روشن ہیں، لیکن اُن کی یادوں نے منظر دھندلایا ہے میں ہفت افلاک کا پنچھی ہوں میر انور نظر آکاشی ہے تو اوندھے منہ چلنے والا؛ اک بے مُرشد چوپایہ ہے ۸۵ میں تجھ سے نہ مانگوں ؛ تو نہ مانگوں گا کسی سے میں تیرا ہوں؛ تو میرا خدا، میرا خدا ہے مسیح بن کے وہی آسماں سے اُتری ہے جو التجا دل ناکتخدا اٹھی مجھے تیری ہی قسم ہے؛ کہ دوبارہ جی اٹھوں گا ترا نفتح روح؛ میرے دلِ زار تک تو پہنچے ۸۸ کے برستی ہے؛ بلا بھیجو کہاں ہے ساقی بھری برسات میں موسم کے اشارے ہیں وہی میرے آنگن سے قضا لے گئی چن چن کے جو پھول جو خدا کو ہوئے پیارے؛ میرے پیارے ہیں وہی منتظر کوئی نہیں ہے؛ لب ساحل ورنہ وہی طوفان ہیں؛ وہی ناؤ، کنارے ہیں وہی مرتے ہیں جب اللہ کے بندوں کے نگہبان رہتے نہیں کیا اُن کے دُلاروں کے سہارے میرا ساتھ نبھاؤن تائیں؟ کوئی راہ نہ چھڈی جیڑے رستیاں توں میں لنگیا؛ اوہی رستے ملے ۸۹ 9° ۹۱ ۹۲