بیت بازی

by Other Authors

Page 826 of 871

بیت بازی — Page 826

826 ۵۶ میرے گناہ؛ تیری بخشش سے بڑھ نہیں سکتے تیرے نار؛ حساب و کتاب جانے دے مقبول دعائیں ہوں سب دُور بلائیں ہوں لے آئے خدا تم کو اب خیر سے، عزت سے مخلوق پر شفقت ہو؛ ہر اک سے مروت ہو معمور ہو دل ہردم خالق کی محبت سے مخدوم وہی ہوگا؟ جو دین کا خادم ہو سب شان ہے مسلم کی؛ اسلام کی شوکت سے ۵۹ محنت ہو اگر کچی؛ ضائع وہ نہیں ہوتی تم کام کئے جاؤ؛ اخلاص سے، ہمت سے جوڑا ہو فضل خدا قدم ان کے بھٹکیں نہ راہِ وفا سے ۵۸ Y۔บ ۶۲ مبارک سے مومن قدم بڑھا کے ہٹاتے نہیں کبھی ان کو قضا کے تیر ڈراتے نہیں کبھی مردانہ وار بڑھتے ہیں سینہ سپر کئے غازی عدو کو پیٹھ دکھاتے نہیں کبھی ۶۳ ملے گا ایک فرزند گرامی عطا ہوگی دلوں کو شادمانی مٹاکر اپنی ہستی راہ حق میں جہاں کو اس نے بخشی زندگانی ۶۵ مغفرت ہے ۶۶ ۶۷ ۶۸ ۶۹ اے ۷۲ ۷۳ ۷۴ ہو جائے مرحمت لا جواب ہو جائے میری پیاری اُمی؛ میری سب سے پیاری رہوں گی دل و جاں سے تابع تمہاری کلام طاهر میرا سورج بھی ہے تو ؛ چاند ستارے بھی تو اپنے جیون پہ میرا فخر تیرے دم سے ہے مجھ کو جو دکھ دیئے ہیں، نہیں تجھ سے کچھ گلہ میری دُعا یہی ہے؛ کہ تو شادماں رہے پر مرے صبح محبوبوں و مسا ؛ مری روح برسوں گئے ؛ بیت بلا ان اندیشوں کا سایه ہے پڑتی کیسی کیسی ہے محبوبی و رعنائی کرتی ہیں طواف اُس کا قدموں یہ نثار اُس کے جمشیدی و دارائی مجنوں کا دشت اُداس ہے؛ صحن چمن اُداس صحرا کی گود؛ لیلی کا آنگن اُداس ہے مجھ سے بڑھ کر مری بخشش کے بہانوں کی تلاش رکس نے دیکھے تھے کبھی ایسے بہانے والے مجھ سے بھی تو کبھی کہہ؛ راضية مــــرضـيــــــه روح بیتاب ہے؛ رُوحوں کو بُلانے والے میں کہاں! اور کہاں حرف شکایت آقا! ہاں ! یونہی ہول سے اُٹھتے ہیں ستانے والے