بیت بازی

by Other Authors

Page 825 of 871

بیت بازی — Page 825

825 ۳۴ ۳۵ ۳۶ میٹھے بھی ہو کے آخر نشتر ہی ہیں چلاتے ان تیرہ باطنوں کے دل میں دعا یہی ہے میں ہوں رستم رسیدہ؛ ان سے جو ہیں رمیدہ شاہد ہے آب دیده؛ واقف بڑا یہی ہے میں دل کی کیا سُناؤں؛ کس کو یہ غم بتاؤں دُکھ درد کے ہیں جھگڑے، مجھ پر بلا یہی ہے ۳۷ مشت تخمبار اپنا تیرے لئے اُڑایا جب سے سُنا؛ کہ شرط مہرووفا یہی ہے مجھ کو ہیں وہ ڈراتے؛ پھر پھر کے در پر آتے تیغ و تبر دکھاتے؛ ہر سُو ہوا یہی ہے ۳۹ مجھ کو ہو کیوں ستاتے؛ سو افترا بناتے بہتر تھا باز آتے؛ دور از بلا یہی ہے ایشر نہیں؛ جو ناتواں ہے ۳۸ ۴۰ ۴۱ معاذ اللہ باطل گماں ہے وہ خود موجوں سے اس کی ؛ پر دے وساؤس کے پھٹ گئے جو کفر اور فسق کے ٹیلے تھے؛ گٹ گئے ۴۲ مقصود ان کا جینے سے دنیا کمانا ہے مومن نہیں ہیں وہ؛ کہ قدم فاسقانہ ہے مردہ سے کب اُمید ؛ کہ وہ زندہ کر سکے اُس سے تو خود محال؛ کہ رہ بھی گزر سکے ۴۳ ۴۴ ۴۵ ۴۶ ۴۷ ۴۸ ۴۹ در عدن مانا کہ انکسار بھی داخل ہے خُلق میں پر کچھ نہ کچھ خلیق کو سیرت پہ ناز ہے ماہر ہے سرجری میں؛ تو ہے ڈاکٹر کو ناز حاذق ہے گر طبیب؛ طبابت پہ ناز ہے ماہر کو ہے یہ ناز؛ کہ حاصل ہے تجربہ عاقل کو اپنے فہم و فراست پہ ناز ہے مولا مرے، بڑھانے قدیر مرے کبریا مرے! پیارے مرے، حبیب مرے؛ دلر با مرے! محبت تھی مجسم میری مریم چلی ہے پیار خالق سے منعم کو ہے یہ ناز؛ کہ قبضہ میں مال ہے عزت خدا نے دی ہے؛ تو عزت پہ ناز ہے ۵۰ مایوس کبھی تیرے سوالی نہیں پھرتے بندے تری درگاہ سے خالی نہیں پھرتے ا مالک ہے جو تو چاہے تو مُردوں کو چلا دے اے قادر مطلق! میرے پیاروں کو شفادے غم کے تھیڑے پیند! پنہ اب انتظام دفع بلیات چاہیئے مانا کہ بے عمل ہیں نہیں قابل نظر ہیں خانہ زاد؛ پھر بھی مراعات چاہیئے ۵۴ مجھے تو دامنِ رحمت میں ڈھانپ لے یونہی حساب مجھ سے نہ لے؛ بے حساب جانے دے ۵۲ مولا سموم ۵۳