بیت بازی

by Other Authors

Page 812 of 871

بیت بازی — Page 812

812 ۴۹ ۵۱ کیا وصف اُس کے کہنا؟ ہر حرف اُس کا گہنا دلبر بہت ہیں دیکھے؛ دل لے گیا یہی ہے کہتے ہیں جوشِ اُلفت یکساں نہیں ہے رہتا دل پر میرے پیارے! ہردم گھٹا یہی ہے کیونکر تتبہ وہ ہووے؛ کیونکر فنا وہ ہووے ظالم جو حق کا دشمن؛ وہ سوچتا یہی ہے رکس دیں پہ ناز اُن کو جو دید کے ہیں حامی مذہب جو پھل سے خالی؛ وہ کھوکھلا یہی ہے کیوں کوئی خلق کے طعنوں کی ہمیں دے دھمکی یہ تو سب نقش؛ دل اپنے سے، مٹایا ہم نے ۵۳ کچھ شعر و شاعری سے اپنا نہیں تعلق اس ڈھب سے کوئی سمجھے، بس مدعا یہی ہے ۵۲ ۵۳ ۵۶ ۵۷ ۵۸ ۵۹ ۶۰ บ ۶۲ ۶۳ ۶۴ ۶۶ ۶۷ ۶۸ ۶۹ کون جی در عدن میرا آج پہلائے کس کو دل داغ اپنے دکھلائے کہو سننے والو! میرے ساتھ آمین خدا تم کو بہتر سے بہتر جزا دے کب تک ہوائیں چرخ چہارم کی کھاؤ گے اے ابنِ مریم! اب بھی تشریف لاؤگے کیا کہیں ہم؛ کہ کیا دیا تو نے ہر بلا سے چھڑا دیا تو نے رکس کے محبوب کی آمد ہے؛ کہ ہر خور دوکلاں نشہ عشق میں مخمور نظر آتا ہے کیونکر کہوں؛ کہ ناز سے خالی ہے میرا دل پیارے! مجھے بھی تیری محبت پہ ناز ہے ޏ بلائیں ٹلیں اور خوشیاں دکھا دے ، انہیں تندرستی عطا کر بلائیں ٹلیں کیا تیری قدر و قیمت تھی ! کچھ سوچ تیری کیا عزت تھی تھا موت سے بدتر وہ جینا؛ قسمت سے اگر پیچ جاتی تھی کیا یہ بہتر نہیں؛ مولا تیرا ناصر ہو جائے نامرادی عدد خَلق ظاہر ہو جائے کشتی عمر رواں یکدم کدھر کو مُردگئی اک ہوا ایسی چلی کہ گھر کی رونق اُڑ گئی کوئی ہمسر نہیں جس کا نہ ثانی اس یار کا اس نے دیا ہے کوئی اس کو نہ جب تک آپ چھوڑے کسی کو خود نہیں وہ چھوڑتا ہے کب راہ ان کی تیرے فرشتے کریں گے صاف کب ہوں گے واپسی کے اشارے؟ کب آئیں گے کب پھر منارِ شرق پہ چمکے گا آفتاب شب کب کٹے گی دن کے نظارے کب آئیں گے کہتا ہے رو کے دل شب تاریک ہجر میں وہ مہر و ماہتاب تمہارے کب آئیں گے؟