بیت بازی — Page 67
67 لا ۹۸ ۹۹ པ 1+1 ۱۰۲ ۱۰۴ ۱۰۵ پل مارنے کی دیر ہے حاجت روائی میں بس التفات قاضی حاجات چاہیئے پھر دکھا دے مجھے مولا میرا شاداں ہونا صحن خانہ کا میرے رشک گلستاں ہونا پھلے اور پھولے یہ گلشن تمہارا بھرے موتیوں سے دامن تمہارا پر یہ خیال رکھ تیرے گھر کا دیا بھی ہیں بھاری تو ہے قصور پر کچھ بے خطا بھی ہیں پیشوائی کیلئے نکلیں گھروں سے؛ مردوزن یہ خبر سن کر کہ آئے پیشوائے قادیاں پایا جنہوں نے حسن ؛ وہ اس مئے سے مست ہیں ہر اک سے بے نیاز ہیں؛ صورت پہ ناز ہے ۱۰ پہلوں سے جو سلوک تھا؛ ہم سے کیا نہیں بھٹکے ہوؤں کو راہ بتائی تھی یا نہیں کلام طاهر 1+2 ۱۰۸ 1+9 11۔۱۱۲ پھر باغ مصطفیٰ کا دھیان آیا ذوالمنن کو سینچا پھر آنسوؤں سے احمد نے اس چمن کو پیغام آرہے ہیں؛ کہ مسکن اداس ہے طائر کے بعد؛ اُس کا نشیمن اداس ہے کر دیئے پھر اک بار؛ پھر اک بار گڑھے میں تو نے؟ دشمن چن چن کے اُتارے ہمارے آقا کے اُونچے مینارے پیار کے پھول دل میں سجائے ہوئے؟ قافلے دُور دیسوں سے آئے ہوئے؟ نورِ ایماں کی شمعیں اٹھائے ہوئے غم زدہ اک بدلیں آشیاں کیلئے پھول تم پر فرشتے نچھاور کریں؛ آرزوئیں مری جو دعائیں کریں؟ اور کشادہ ترقی کی راہیں کریں رنگ لائیں میرے مہماں کیلئے پھر افق تا افق ایک قوس قزح راک حسیں یاد لے جیسے انگڑائیاں؛ اُن کے پیکر کا آئینہ بن کر سجی عالم خواب میں خفتگاں کیلئے پورب سے چلی پر تم پر کم ؛ با روح و ریحان وطن اُڑتے اڑتے پہنچے پچھتم ؛ سند رسند ر مُرغانِ وطن پرغم پرغم در پتھر کی لکیر ہے یہ تقدیر؛ مٹا دیکھو گر ہمت ہے یا ظلم مٹے گا دھرتی سے ؛ یا دھرتی خود مٹ جائے گی پشاور سے انہی راہوں پہ؛ سنگستانِ کابل کو مرا شہزادہ لے کر جان کا نذرانہ آتا ہے پیشوائی کرو؛ تمہاری طرف آ رہا ہے نیا نظام ؛ چلو ۱۱۳