بیت بازی — Page 794
794 ۳۳ ۳۴ ۳۵ ۳۶ ۳۷ ۳۸ ۳۹ ۴۰ ۴۱ ۴۲ ۴۳ ۴۴ سینے پہ غم کا طور لئے پھر رہا ہے کیا موسی پلیٹ! کہ وادی ایمن اداس ہے سرمدی پریم کی آشاؤں کو دھیرے دھیرے مدھ بھرے سُر میں مدھر گیت سنانے والے سُن رہا ہوں قدم مالک تقدیر کی چاپ آرہے ہیں میری بگڑی کے بنانے والے سکھلا دیے اسلوب بہت صبر ورضا کے اب اور نہ لمبے کریں دن کرب و بلا کے سنیئے تو سہی! پگلا ہے دل پگلے کی باتیں ناراض بھی ہوتا ہے کوئی دل کو لگا کے ڈوبا؛ بحر ظلمات کی طغیانی میں؛ سورج ہی نہیں اک شب سب چاند ستارے ڈوب گئے نور جو تیرا ہے؛ لاکھ ہو میرا سادہ باتوں کا بھی؛ ملا نہ جواب کے دھارے ڈوب گئے جو میرا بنے تو بات بنے سوالات؛ مظلمات بنے سودوزیاں سرور نم؛ روشنیوں کے زیروئم اس بجھے تو پاس کے دیپ کی کو اچھل پڑے بچے ساتھی بانٹ کے دُکھ مراتن من دھن اپنا بیٹھے سکھ کے ساتھی تھے ہی پرائے ؛ کون گیا، کون آیا ہے سینے سے لگالینے کی حسرت نہیں ملتی پہلو میں بٹھانے کی تڑپ؛ حد سے سوا ہے سدا کی رسم ہے؛ ابلیسیت کی بانگِ زبوں آنا کی گود میں پل کر اباء سے اُٹھی ہے سکھ بانٹتے پھرتے تھے ، مگر کتنے دُکھی تھے بے چارگی غم میں بچاروں کے سہارے سینوں پر رقم ہیں تری عظمت کے فسانے گاتی ہیں زبانیں تیری سطوت کے ترانے کر کے دعائیں نہ دو ہمیں؛ ہم لوگ وہ لوگ ہیں؛ کہ ترستے ہیں بد دعا کیلئے ۴۸ سوندھی سوندھی باس وطن کی مٹی میں سے اٹھے تب سب نوحے بھول کے وہ بس راگ ملن کے گائے سوچا بھی کبھی تم نے؛ کہ کیا بھید ہے ملاں کیوں تم سے گھن آتی ہے؛ اچھے نہیں لگتے ۴۵ ۴۶ ۴۷ ۴۹ ۵۰ سلام کلام محمود که سجدہ کناں ہوں در پہ ترے؛ اے میرے خدا! اُٹھوں گا؛ جب اُٹھائے گی، یاں سے قضا مجھے سلطنت کچھ تو انہی باتوں سے بے جان ہوئی کچھ لٹیروں نے غضب کر دیا؛ آفت ڈھائی ۵۲ ساتھ لائے یہ ہزاروں نئی ایجادیں بھی جو نہ کانوں تھیں سنی؛ اور نہ آنکھوں دیکھی ۵۱