بیت بازی

by Other Authors

Page 785 of 871

بیت بازی — Page 785

785 ۸۹ ۹۰ ۹۱ ۹۲ ۹۳ ۹۴ ۹۶ ۹۷ ۹۸ ۹۹ 1+1 ۱۰۲ ۱۰۳ ۱۰۴ ۱۰۵ ہے دیکھئے ! کب وہ منہ دکھاتا ہے پردہ چہرہ سے کب اُٹھاتا دیکھ لینا! اُن کی اُمید ہیں؛ بنیں گی حسرتیں اک پریشاں خواب نکلے گا؛ یہ خواب زندگی دلبرا! الزام تو دیتے ہیں چھپنے کا تجھے اوڑھے بیٹھے ہیں مگر ہم خود؛ نقاب زندگی وست عزرائیل میں مخفی ہے سب راز حیات موت کے پیالوں میں؛ بٹتی ہے شراب زندگی دلوں کی پھپی بات بھی جانتا ہے بدوں اور نیکوں کو پہچانتا ہے دل پاک کردے میرا؛ دُنیا کی چاہتوں سے سبوحیت سے حصہ؛ سُبحان مجھ کو دے دے دل جل رہا ہے میرا؛ فُرقت سے تیری ہردم جام وصال اپنا؛ اے جان! مجھ کو دے دے دُنیائے کفر و بدعت کو؛ اس میں عرق کردُوں طوفان نوح سا اک؛ طوفان مجھ کو دے دے دھل جائیں دل بدی سے سینے ہوں نُور سے پُر اَمراضِ رُوح کا؛ وہ درمان مجھ کو دے دے ؛ دُنیا کا تم ادھر ہے؛ اُدھر آخرت کا خوف یہ بوجھ میرے دل سے الہی! اُتار دے دن بھی اسی کے، راتیں بھی اس کی جو خوش نصیب آقا کے در پہ عمر کو اپنی گزاردے دل چاہتا ہے؟ جان ہو اسلام پر نثار توفیق اس کی؛ اے میرے پروردگار دے! دل میں میرے کوئی نہ کسے تیرے سوا اور گر تو نہیں بتا؛ اسے ویرانہ بنادے ؛ دشمن کو بھی جو مومن ؛ کہتا نہیں وہ باتیں تم اپنے گرم فرما کے حق میں روا سمجھے دن ہی چڑھتا نہیں قسمت کا مری؛ اے افسوس ! منتظر دل مانگ، جان مانگ؛ کیسے غذر ہے یہاں منظور ہوں تیری آمد کا؛ کئی راتوں سے ہے ہمیشہ ޏ خاطر مجھے تری در کے خانہ پا کر بند؛ اے شیخ! چلے ہیں آپ بھی؛ گھر کو خُدا کے ۱۰۶ داروئ ہر مرض شفائے جہاں حق نے بخشی 1+2 ۱۰۸ 109 +11 دشمنوں سے تو رکھ میرا پردہ اس طرح کر دل میں بیداریاں ہیں پھر پیدا پھر دیکھا؛ چشم و وہ مجھے بے حجاب مجھے نیم خواب مجھے جمال ہیں ایسے دین و دنیا کی سُدھ نہیں اُن کو محو حسن دیکھا نہ تو نے آئینہ خانہ میں بھی جمال تیری تو عقل میں کوئی آیا فتور ہے