بیت بازی

by Other Authors

Page 784 of 871

بیت بازی — Page 784

784 ۶۸ ۶۹ <+ اے ۷۲ ۷۳ ۷۴ ۷۵ 24 22 ZA و Al ۸۲ ۸۳ ۸۴ ۸۵ دعا کرتا ہوں میں بھی؛ ہاتھ اُٹھا کر حق تعالیٰ ΛΥ ޏ اپنی خاص رحمت سے؛ وہ اس شادی میں برکت دے دین اسلام بس اب ان کی سمجھ میں آجائے بات یہ کچھ بھی نہیں؛ رحم اگر وہ فرمائے وقال کی بڑائی کو خاک میں ملا دوں قوت مجھے عطاء کر ؛ سلطان مجھ کو دے دے وم و تم اگر ہو کسی کو تو آئے وہ میداں میں؛ ہر دورنگی ورد اک کو للکارتا ہے سے ہمیں ہے سخت نفرت جو دل میں ہے؛ کہیں سے بھی عیاں ہے دیا ہے رہنما؛ بڑھ کر خضر خُدا بھی ہم کیسا مہرباں ہے دل آفت زدہ کا دیکھ کر حال مرا زخم جگر بھی ہنس رہا ہے دم عیسی سے مُردے چی اُٹھے ہیں جو اندھے تھے، انہیں اب سُوجھتا ہے ہے دل میں میرے یا خار ہے کیا ہے آخر اس کو کیا آزار ہے دل کے رنگوں نے ہی مجوب کیا ہے اس سے شاہد اس بات پہ اک پردۂ زنگاری ہے دشمن دین ترے حملے، تو سب میں نے سہے اب ذرا ہوش سے رہیو! کہ مری باری ہے دَر کے خانہ اُلفت اگر میں وا کبھی پاتا تو بس کرتا نہ گھونٹوں پر؛ صراحی ہی سُبُو ہوتی دعوئی حُسنِ بیاں بیچ ہے؛ میں تب جانوں مجھ سے جو بات نہ بن آئے؛ بنائے کوئی دیدہ شوق اُسے ڈھونڈ ہی لے گا آخر لاکھ پردوں میں بھی گو خود کو چھپائے کوئی دے دیا دل؛ تو بھلا شرم رہی کیا باقی ہم تو جائیں گے؛ بُلائے، نہ بُلائے کوئی دشت و کوہسار میں جب آئے نظر جلوۂ حسن تیرے دیوانے کو پھر کون سنبھالے؛ پیارے! دل میرا میرا بے قرار رہتا ہے میرا فگار رہتا ہے دل میرا توڑتے ہو کیوں جانی! آپ کا اس میں پیار رہتا ہے دل کی حالت پر کسی بندے کو ہو کیا اطلاع بس وہی محمود ہے؛ جو اس کے ہاں محمود ہے ۸۷ دیکھا نا نگاہ یار پا لی ہم نے فُرقت میں کواس و ہوش کھوتے کھوتے دلوں کو نور سے ہوں بھرنے والے ہوں تیری رہ میں؛ ہر دم مرنے والے ۸۸