بیت بازی — Page 783
783 دیکھا کچھ مغرب کے افق سے؛ گئے دیپ طلسم نظر کے کیسا سچ کا سُورج نکلا مٹ گئے جھوٹ کے چاند ستارے بے قرار گزرا دن بہت دور ہو ہے میرے چاند! میری رات بنے گی گلفت عرصوں کی ہم گیت مکن کے گائیں گے؛ سرسوں کی اور پیاس بجھے گی برسوں کی پھولیں گی فصلیں دل آپ کا ہے؛ آپ کی جان، آپ کا بدن غم بھی لگا ہے جان گسل آپ کیلئے دی آه مومن سے ٹکرا کے دو گھڑی صبر سے کام لو ساتھیو! آفت ظلمت و جور مل جائینگی طوفان کا رُخ پلٹ جائیگا، رُت بدل جائیگی اگر ہو، تو اندھیر ہرگز نہیں؟ ہرگز نہیں سنت الله سنت اللہ بے لا جرم باليقيس ؛ ہے قول أملــــى لَهُم إِنَّ كَيدِى مَتِين بات ایسی نہیں، جو بدل جائے گی دیکھ کر دل کو نکلتا ہوا ہاتھوں سے کبھی رس بھری لوریاں دے دے کے سُلانے والے دیں مجھ کو اجازت کہ کبھی میں بھی تو روٹھوں لطف آپ بھی لیں؛ رُوٹھے غلاموں کو منا کے دیوانہ ہوں دیوانہ بُرا مان نہ جانا صدقے میری جاں؛ آپ کی ہر ایک ادا کے دیر کے بعد، اے دُور کی راہ سے؛ میری ترسی نگاہیں، کہ تھیں منتظر آنے والو! تمہارے قدم کیوں نہ لیں! اک زمانے سے، اس کارواں کیلئے دشت طلب میں جابجا بادلوں کے ہیں دل پڑے کاش! کسی کے دل سے تو چشمہ فیض اُبل پڑے دل بے قرار قابو سے نکل چکا ہے یارب! نگاہ رکھ کہ پاگل، سردار تک تو پہنچے دیکھیں تو سہی دن کیسے کیسے؟ بدلی نے شفق کے چہرے پر؛ حسن کے رُوپ میں ڈھلتا ہے نہ کالا گیسو لہرایا کلام محمود دل دے کے مُشتِ خاک کو؛ دلدار ہو گئے اپنی عطا کے؛ آپ خریدار ہو گئے دوستی اور وفاداری ہے سب عیش کے وقت آڑے وقتوں میں بھلا کون وفا کرتا ہے ۵۳ ۵۴ ۵۵ ۵۶ ۵۷ ۵۹ ۶۰ บ ۶۲ ۶۳ ۶۴ ۶۵ ۶۶ ۶۷