بیت بازی — Page 771
771 1+4 ۱۰۷ ۱۰۸ 11۔۱۱۲ ۱۱۳ ۱۱۴ جو ختم نہ ہو؟ ایسا دیکھا جلوہ تاباں جو مر نہ سکے، مجھ کو وہ پروانہ بنادے جو جاننے کی باتیں تھیں؟ اُن کو کھلایا ہے جب پوچھیں سبب کیا ہے؟ کہتے ہیں 'خدا جانے جو چال چلے ٹیڑھی، جو بات کہی اُلٹی بیماری اگر آئی؛ تم اس کو شفا سمجھے چیوں تو تیری خوشنودی کی خاطر ہی جوں ساقی مروں تو تیرے دروازے کے آگے ہی مروں ساقی جدائی کا خیال آیا جو دل میں لگے آنے پسینوں پر پسینے جو میرا تھا؛ اب اُس کا ہو گیا ہے میرے دل سے کیا یہ کیا کسی نے جدائی میں تیری کڑیا ہوں برسوں یونہی گزرے ہیں ہفتے اور مہینے جو کام تجھ سے لینا تھا؛ وہ کام لے چکے پر واہ رہ گئی ہے یہاں؛ آب کسے تری ذرا دیکھو تو اس محفل میں آکے کیا لیں گے بھلا؛ مسجد میں جا کے جو پھر نکلو تو جو چاہو، سو کہنا ۱۱۵ جنھوں نے ہوش کے خانے میں کھوئے ۱۱۷ جس میں حصہ نہ ہو میرے دیں کا جن کو عقمی کا فکر رہتا ۱۱۸ جل کے ۱۱۹ ۱۲۰ ۱۲۱ ۱۲۲ ہو وہ کیسے بھائے وہ آب و تاب مجھے ہیں مگر خال خال ہیں ایسے رہ جاتے ہیں تمام افکار دل کے اندر اُبال ہیں ایسے که شرمنده جواب نہیں ان کے دل میں سوال ہیں ایسے جو دل پہ زخم لگے ہیں مجھے دکھا تو سہی ہوا ہے حال تیرا کیا؛ مجھے سُنا تو سہی جو دشت و کوہ بھی رقصاں نہ ہوں ، مجھے کہو تو اس کی سُر سے؛ ذرا اپنی سُر ملا تو سہی جسم ایماں ؛ سعی وکوشش سے ہی پاتا ہے نمو آرزوئے بے عمل ؛ کچھ بھی نہیں ، اک خواب ہے ۱۲۳ جن کے سینوں میں نہ دل ہوں بلکہ پتھر ہوں دھرے کیا پہنچ ان تک ہمارے نالۂ دلگیر کی بھجوئے نس نہ کر ؛ تو دوسرے کی آنکھ میں فکر کر نادان! اپنی آنکھ کے شہتیر کی جت میں ایسی جنس کا جانا حرام ہے اپنے ذنوب کا یہیں پشتارہ چھوڑ دے جو کچھ بھی دیکھتے ہو؛ فقط اُس کا نُور ہے ورنہ جمال ذات تو؛ کوسوں ہی دُور ہے جب وہ بیٹھے ہوئے ہوں پاس میرے پاس آئے ہی کیوں ہراس میرے ۱۲۴ ۱۲۵ ۱۲۶ ۱۲۷