بیت بازی

by Other Authors

Page 769 of 871

بیت بازی — Page 769

769 ۶۴ ۶۶ ۶۷ ۶۸ ۶۹ 4۔اے ۷۲ ۷۳ ۷۴ ۷۵ ۷۶ 22 ZA 29 ۸۰ ۸۲ ۸۳ جب مالی داغ جدائی دے مرجھا جاتے ہیں گل بوٹے دیکھیں فرقت نے کیسے پھول سے چہروں کو گملا یا ہے جو درد سکتے ہوئے حرفوں میں ڈھلا ہے شاید کہ یہ آغوشِ جُدائی میں پالا ہے جس رہ میں وہ کھوئے گئے ؛ اس رہ پہ گدا ایک کشکول لئے چلتا ہے؛ کب پر یہ صدا ہے جو آہ، سجدہ صبر ورضا سے اُٹھی زمین بوس تھی؛ اُس کی عطا سے اُٹھی ہزار التجا سے اُٹھی ہے ہے ہے جو دل میں بیٹھ چکی تھی ، ہوائے عیش و طرب بڑے جتن ؟ جو گلاب کے کٹوروں میں شراب ناب بھر دے وہ نسیم آه؛ پھولوں کے نکھار تک تو پہنچے جو نہیں شمار اُن میں؛ تو غُراب پر شکستہ ترے پاک صاف بگلوں کی قطار تک تو پہنچے جھٹپٹوں میں اُنہی یادوں سے وہی کھیلیں گے کھیل وہی گلیاں ہیں، وہی صحن؛ چوبارے ہیں وہی جانے یہ دکھ ہے تمہارا؟ کہ زمانے کا ستم اجنبی ہے کوئی مہمان چلا آیا ہے جو سینہ شمشیر کو بھی چیر کے رکھ دے دنیا ترے ہاتھوں میں وہ شمشیر بھی دیکھے جو کم آکھیا؛ حاضر سائیں کہہ کے چھاتی ڈائی جس دیاں سارے پاپڑ ویلے سارے جھمیلے جھلے جاؤ سدھارو تم بھی سدھا رو رو کے تم کو کوئے اس سنسار کی ریت یہی ہے؛ جو پائے ،سوکھوئے جس کی خاطر وہ ہمیں کرتا تھا پیار؛ اے وائے ! وہ بھی غمگین ہے اس کیلئے بے حد ؛ ہائے! جا کہ اب قرب سے تیرے مجھے دُکھ ہوتا ہے اے شب غم کے سویرے؛ مجھے دُکھ ہوتا ہے جیو، تو کامراں جیو؛ شہید ہو، تو اس طرح کہ دین کو تمہارے بعد عمر جاوداں ملے جن کے اخلاص اور پیار کی ہر ادا؛ بے صدا جن کی آنکھوں کا کرب و بلا؟ بے غرض، بے ریا، دل نشیں، دلربا دل عاشقاں کیلئے کربلا ہے دل کلام محمود جس نے آتے ہی وہ نقشہ ہی بدل ڈالا ہے جس جگہ خار تھا؛ اب واں پہ گل لالہ ہے بھلا تم کو کیا گلہ ہے جس کو کیا ہے خدا نے مامور اس ޏ جدھر دیکھو ایر گنہ چھا رہا ہے گناہوں میں چھوٹا بڑا مبتلا ہے جہاں سے ایمان اٹھ گیا تھا فریب و مکاری کا تھا پر چا فساد نے تھا جمایا ڈیرا؛ وہ نقشہ اس نے اُلٹ دیا ہے