بیت بازی — Page 765
765 ودر ثمین ثمر ہے دُور کا؛ کب غیر کھاوے چلو اوپر کو؛ وہ نیچے نہ آوے کلام محمود ثمار عشق ہیں کیسے، کبھی تو چکھ کر دیکھ بیج باغ میں اپنے تو لگا تو سہی i 'ج' سے 'ی' 'ج' سے شروع ہو کر'ی' پرختم ہونے والے اشعار ) تعداد كُل اشعار در ثمين 134 39 16 24 55 در عدن كلام طاهر کلام محمود == =: iv در ثمین جمال وحسن قرآں؛ نورِ جانِ ہر مسلماں ہے قمر ہے چاند اوروں کا؟ ہمارا چاند قرآں ہے جو دور تھا خزاں کا؛ وہ بدلا بہار سے چلنے لگی نسیم عنایات یار سے جو را ز دیں تھے بھارے؛ اس نے بتائے سارے دولت کا دینے والا ؛ فرمانروا یہی ہے جس کی دعا سے آخر ؛ لیکھو مرا تھا کٹ کر ماتم پڑا تھا گھر گھر؛ وہ میرزا یہی ہے جو دیکھا کہ یہ ہیں سڑے اور گلے لگا ہونے دل اس کا اوپر تلے جل رہے ہیں یہ سبھی بغضوں میں اور کینوں میں باز آتے نہیں ہر چند ہٹایا ہم نے Y