بیت بازی — Page 762
762 ۸۶ ۸۹ 9° ۹۲ ۹۳ ۹۴ ۹۵ ۹۶ لا تسکی پا گیا تو کس طرح؟ تب لطف تھا سالک کہ آنکھیں چار ہوتیں اور باہم گفتگو ہوتی تشنہ لب ہوں بڑی مدت سے خُدا شاہد ہے بھر دے اک جام تو؛ گوثر کے لگانے والے! تجھ کو تیری ہی قسم؛ کیا یہ وفاداری ہے دوستی کر کے مجھے دل سے بھلانے والے! تا قیامت رہے جاری؛ یہ سخاوت تیری او میرے گنج معارف کے لٹانے والے! تشنگی میری نہ پیالوں سے بجھے گی ہر گز کم کائم لے کے میرے منہ سے لگائے کوئی تو کہے؛ اور نہ مانے میرا دل، ناممکن کس کی طاقت ہے ترے حکم کو ٹالے پیارے! تم میں وہ زور، وہ طاقت ہے اگر ؛ چاہو تو چھلنی کر سکتے ہو تم پشت عدو؛ تیروں سے تم بھی گر چاہتے ہو کچھ ؛ تو جھکو اس کی طرف فائدہ کیا تمھیں اس قسم کی تدبیروں سے تم میرے قتل کو نکلے تو ہو؛ پر غور کرو! شیشے کے ٹکڑوں کو، نسبت بھلا کیا؛ ہیروں سے تیرے عاشق کا کیا بتائیں حال تیرے در پر ہی؛ میری جان نکلے تیرے ہاتھوں سے؛ اے نفسِ دَنی سُن! رات خُدایا! دن اشکبار رہتا ہے میرا نکلے نکلے نہ آرمان جنھیں دیکھا؟ وہی نالان وہ تری نسبت سنے تھے جس قدر عیب سارے جھوٹ اور بہتان نکلے تیری زمین پاک ہے؛ کوثِ گناہ سے محفوظ خاک ہے تیری؛ ہر روسیاہ سے تھا عرق گنہ؛ لیکن پڑتے ہی جگہ اُن کی اشک آنکھوں میں اور ہاتھوں میں عرش کے پائے تھے تو بارگاہ حسن ہے، میں ہوں گدائے حسن مانگوں گا بار بار میں؟ تو بار بار دے تنگ آ گیا ہوں نفس کے ہاتھوں سے میری جاں جلد آ؛ اور آکے اس میرے دشمن کو ماردے تعریف کے قابل ہیں؛ یارب! تیرے دیوانے آباد ہوئے جن سے دنیا کے ہیں ویرانے تری دنیا میں فرزانے بہت سے پائے جاتے ہیں مجھے تو بخش دے؛ اپنی محبت کا بنوں ساقی تجھے معلوم ہے، جو کچھ مرے دل کی تمنا ہے مرا ہر ذرہ، گویا ہے؛ زباں سے کیا کہوں ساقی ترے در کی گدائی سے؟ بڑا ہے کون سا درجہ مجھے گر بادشاہت بھی ملے ؛ تو میں نہ گوں ساقی تو مری جاں کی غذا ہے؛ مرے دل کی راحت پیٹ بھرتا ہی نہیں؛ تیری ملاقاتوں سے ۹۸ ۹۹ 1۔0 1+1 ۱۰۲ ١٠٣ ☑ ۱۰۴ ۱۰۵ ۱۰۶ ۱۰۷