بیت بازی

by Other Authors

Page 756 of 871

بیت بازی — Page 756

756 پیالہ بھرا ہے لب بلب ٹھوکر ہی اک درکار ہے ۴۶ ۴۷ ۴۸ ۴۹ ۵۱ ۵۴ ۵۶ سے بھر گئے پڑی ہے کیسی مصیبت یہ غنچہ دیں پر رہی وہ شکل و شباہت؛ نه رنگ و بُو باقی پیاس میری نہ بجھی گر ؛ تو مجھے کیا اس سے چشمہ فیض و عنایات؛ اگر جاری ہے پیٹھ میدان ونا میں؛ نہ دکھائے کوئی منہ پہ یا عشق کا پھر نام نہ لائے کوئی ۵۰ پرده زُلف دوتا رخ سے ہٹالے پیارے ہجر کی موت سے للہ بچالے پیارے! ا پردہ غیب سے امداد کے ساماں کردے سب کے سب بوجھ مرے آپ اُٹھالے پیارے! ۵۲ پھر بھی مغلوب رہو گے؛ میرے تایومُ البعث ہے یہ تقدیر خداوند کی تقدیروں سے ۵۳ پل بھر میں میل سینکڑوں برسوں کی دھل گئی صدیوں کے بگڑے؛ ایک نظر میں سُدھر گئے پُر کر گئے فلاح سے جھولی مُراد کی دامان آرزو کو سعادت ۵۵ پر تم یونہی پڑے رہے؛ غفلت میں، خواب کی دیکھا نہ آنکھ کھول کے ساتھی کدھر گئے پوچھو جو اُن سے؛ زُلف کے دیوانے کیا ہوئے فرماتے ہیں؟ کہ میری بلا جانے کیا ہوئے پھر مٹے جاتے ہیں؛ ہر قسم کے دُنیا سے فساد عقل پھر تابع الہام ہوئی جاتی ہے پڑھ چکے احرار ؛ بس اپنی کتاب زندگی ہو گیا پھٹ کر ہوا؟ اُن کا حُباب زندگی پڑ رہی ہیں انگلیاں ارباب حل و عقد کی بج رہا ہے اس طرح؛ ان کا رُباب زندگی پہاڑوں کو اُس نے ہی اونچا کیا ہے سمندر کو اُس نے ہی پانی دیا ہے پھر میرے سر میں لگے اُٹھنے خیالات بجنوں فتنہ محشر میرے دل میں بپا ہونے کو ہے پھر مری شامت کہیں لے جارہی ہے کھینچ کر کیا کوئی پھر مائل جو روکھا ہونے کو پھر کسی کی تیغ ابرو اُٹھ رہی ہے بار بار پھر مرا گھر موردکرب و بلا ہونے کو ہے پھر بہا جاتا ہے آنکھوں سے مری اِک سیل اشک پھر مرے سینہ میں اک طوفاں بپا ہونے کو ہے پھر چھٹا جاتا ہے ہاتھوں سے مرے دامانِ صبر ناله آه و فغاں کا باب وا ہونے کو کسی نے؟ غریبوں کو بھی پوچھا ہے ۵۷ ۵۸ ۵۹ ۶۰ บ ۶۲ ۶۳ ۶۴ ۶۶ ۶۷ زر پرستاران تو بتاؤ ہے ہے پیدائش جہاں کی غرض بس یہی تو ہے بگڑا کرے کوئی تو بنایا کرے کوئی