بیت بازی — Page 755
755 ۲۷ ۲۸ ۲۹ پھر افق تا افق ایک قوس قزح اک حسیں یاد کے جیسے انگڑائیاں؛ اُن کے پیکر کا آئینہ بن کر بھی عالم خواب میں خُفتگاں کیلئے پھر اک بار گڑھے میں تو نے؟ کر پھر اک دیئے پھر بار سب دشمن چن چن کے اُتارے ہمارے آقا کے اونچے مینارے پشاور سے انہی راہوں پر سنگستان کابل کو میرا شہزادہ لے کر جان کا نذرانہ آتا ہے پر سوچو! کہ تم میں سے ہے بعضوں میں وہ کیا عیب وہ جو بھی ہوں؛ انسان کے بچے نہیں لگتے پھر بھی چین نہ آئے؟ گھر کی یاد بہت ترسائے جیسے زخمی مچھلی تڑپے؛ تڑپے اور بل کھائے ۳۲ پچھتائے اور اپنے من پر آپ ہی دوش لگائے بلک بلک کر اک سنیاسن کا یہ دوہا گائے پر بت کا کٹنا یا اس کے جی پر آفت ڈھائے اولوں کا پتھراؤ کرے اس پر؛ اور شرم دلائے پیتیم یاد میں ڈوب ڈوبا؟ پریم نگر کو جائے ایک ہی دھن گم ہوئن میں؛ ایک ہی یار بسائے پر احمد کی وہ ہیں؟ کہ جن کے جب دعا کو ہاتھ اُٹھیں تڑپ تڑپ کے یوں کہیں ؟ کہ ہم کو قادیاں ملے پھر بیٹھ کر مزے سے کسی بند کمرے میں اک دوسرے کو حلوے پر حلوہ کھلائیں گے کلام محمود ۳۳ ۳۴ ۳۵ ۳۶ ۳۷ ۳۸ ۳۹ ۴۰ ام ۴۲ ۴۳ م سوم ۴۵ پڑھ لیا قرآن عبدالحی نے خوش بہت ہیں آج سب چھوٹے بڑے پھائے رکھے گئے واں مرہم کافوری کے دیے جاتے تھے جہاں زخم جگر کے چر کے پھیلایا تار ملک میں آرام کیلئے سلطنت ہی ہم پہ بہت مہربان ہے پیتے ہیں ایک گھاٹ پر شیر اور گوسپند اس سلطنت میں یاں تلک امن وامان ہے پریشاں کیوں نہ ہوں دشمن؛ مسیحا! ظفر کی تیرے ہاتھوں میں عناں ہے پس اس کی شان میں جو کچھ ہو کہتے ہمارے دل جگر کو چھیدتا ہے پتھر بھی پکار کر کہیں گے ان کافروں کی یہی سزا ہے پڑا عجب شور جابجا ہے؛ جو ہے وہ دنیا پہ ہی خدا ہے نہ دل میں خوف خدا رہا ہے نہ آنکھ میں ہی رہی حیا ہے پارہ ہائے دل اُڑے جاتے ہیں کیوں یہ جگر کا زخم کیوں خونبار ہے