بیت بازی

by Other Authors

Page 747 of 871

بیت بازی — Page 747

747 ۲۹۱ ۲۹۲ ۲۹۳ ۲۹۴ اچھل چکا ہے بہت نام لات و عزتی کا اب اپنا نام جہاں میں اچھال دے پیارے! کی اک بگہ میں زالِ دُنیا چھین کر دل لے گئی رہ گئی بے کار ہو کر؛ دل رُبائی آپ کی اس کا ہر ہر قول محجبت ہے زمانہ بھر یہ آج میرزا میں جلوہ گر ہے؛ میرزائی آپ کی ایک بے گس، نیم جاں کو آزمانا چھوڑ دے نار فرقت سے؛ میرے دل کو جلانا چھوڑ دے پہ یہ فضل، یہ گرم؛ یہ رحم کیا طبیعت ہے؟ بادشاہوں کی اُٹھی آواز جب اذاں کی اللہ کے گھر سے تو گونج اُٹھے گا لندن؛ نعرۂ اللہ اکبر سے ۲۹۷ اُڑے گا پرچم توحید پھر سقف معلی پر ملیں گے دھکے دیو شرک کو گھر گھر سے ڈر ڈر سے ۲۹۵ ۲۹۶ ۲۹۹ ۳۰۱ اس پہ ہے ۲۹۸ اس زمانہ میں اماموں کی بڑی کثرت ہے مقتدی ملتے نہیں؛ ان کی بڑی قلت اس پر یہ اور ہے آفت؛ کہ ہیں باغی پیرو اور لیڈر کو جو دیکھو تو وہ گم ہمت ہے اپنے محسن پر ستم ؛ اس سے بڑا کیا ہوگا قرض لے کر، جو نہ دے؛ سخت ہی بک فطرت ہے اس کے دم سے مرا تھا آتھم ؛ اسی نے لیکھو کا سر کیا تم اس کا دنیا میں آج پر چم ؛ ہما کے بازو پر اڑ رہا ہے احساں نہ تیرا بھولوں گا تازیست؛ اے مسیح پہنچا دے گر تو یار کے در پر ذرا مجھے ۳۰۳ اک وقت آئے گا؛ کہ کہیں گے تمام لوگ ملت کے اس فدائی پہ رحمت خدا کرے ایک دل؛ شیشہ کی مانند ہوا کرتا ہے ٹھیس لگ جائے ذراسی؛ تو صدا کرتا ہے ہمیں ایک دل شیشہ کی مانند ہوا کرتا ٹھیس لگ جائے ذراسی؛ تو صدا کرتا ہے ٣٠٢ ۳۰۴ ۳۰۵ ا یہ شعر، در اصل حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی ایک پرانی نظم کا مطلع ہے جو کہ غالباً 1924 ء کی ہے۔آپ کو صرف اس کا مطلع یا درہ گیا تھا۔پھر 1946ء میں اسی مطلع پر ایک نئی نظم کہی۔اسی لئے ، کلام محمود میں یہ شعر دو مختلف جگہوں پر ہے۔چنانچہ اس کتاب میں بھی یہ شعر دو بار شامل کیا گیا ہے۔اور اشعار کے شمار میں بھی اس کو دو بار شامل کیا گیا ہے۔