بیت بازی — Page 740
740 ۱۴۹ ۱۵۲ دنیادی آزاد کہاں وہ ملک جہاں قابض ہو سیاست پر ملا جو شاہ بنے ، بے تاج بنے ؟ جو حاکم تھے محکوم ہوئے ۱۵۰ اُترے گا خدا جب تیری تقدیر بنانے مٹ جائیں گے؛ نکلے جو تیرا نام مٹانے ۱۵۱ آؤ سجنو! مل لیے ؛ تے گل اُس یار دی چلنے مردے جیدے دانے ملک گئے گل پرسوں دی گل اے اُتلے یار نے جد صد ماری؛ پین سٹئی دنیا دی یاری عرشاں تائیں لائی تاری؛ مار اُڈاری گلئے ایم۔ٹی۔اے دی خاطر گھر و چار چغیرے کو نیا مخلص منڈے گڑیاں لکھ کے چونویں چونویں ونے اونوں کیو میں دستاں کہ میں تیتھوں آج سکھ پائیا شاوا سوہنے یار مبشر ! واہ واہ بکے بکے کیویں اُسے ڈھونڈتی ہیں گلی گلی مری خلوتوں کی اُداسیاں وہ ملے تو بس یہ کہوں؛ کہ آمر ا مولیٰ تیرا بھلا کرے ۱۵۶ اذانیں دے کے؛ دُکھاؤ نہ دل خدا کیلئے درود پڑھ کے؛ ستاؤ نہ مصطفیٰ کیلئے ۱۵۳ ۱۵۴ ۱۵۵ اس نام کے جینے سے قرآن کا ہوتا ہے ادراک مجھے ۱۵۸ اس نام کے دیپ جلاتا ہوں تو چاند ستارے دیکھتا ہوں ۱۵۹ 17۔اس نام کے پکو پکڑے پکڑے اس دنیا تک جاؤں گا یہ سُندر نام ہونٹوں سے دل تک کر دیتا ہے پاک مجھے؛ اللہ کے بہت پیارے، مرے مُرشد کا نام محمد ہے سینے سے عرش تک اُٹھتے ہوئے نوروں کے دھارے دیکھتا ہوں میرے نور مجسم صلی اللہ مرشد کا نام محمد ہے اس کے قدموں کی خاک تلے میں اپنی جنت پاؤں گا ہردم، نذرالاسلام، میرے مرشد کا نام محمد ہے اے قوم تر احافظ ہو خدا؛ ٹالے سر سے ہر ایک بلا تاحد نظر سیلِ عصیاں ؛ ہر سمت کنارے ڈوب گئے إن آنسوؤں کو چرنوں پہ گرنے کا اذن ہو آنکھوں میں جو رہے ہیں مچل؛ ؛ آپ کیلئے آ جائیے؛ کہ سکھیاں یہ مل مل کے گائیں گیت موسم گئے ہیں کتنے بدل؛ آپ کیلئے اب حسرتیں بسی ہیں وہاں؛ آرزوؤں نے خوابوں میں جو بنائے محل؛ آپ کیلئے احمد اور مکہ اور طائف؛ انہی راہوں پر ملتے ہیں انہی پر شعب بو طالب بے آب و دانہ آتا ہے ۲۵ اسے عشق ووفا کے جرم میں سنگسار کرتے ہیں تو ہر پتھر دم تسبیح دانه دانه آتا اُسے رُک رُک کے بھی تسکین جسم و جاں نہیں ملتی ہمیں مثل صبا چلتے ہوئے ستانا آتا ہے آنکھ میں پھانس کی طرح ہجر کی شب اٹک گئی اے مرے آفتاب آ؛ رات ٹلے، تو گل پڑے ۱۶۱ ۱۶۲ ۱۶۳ ۱۶۴ ۱۶۵ ۱۶۶ ۱۶۷ ہے