بیت بازی

by Other Authors

Page 61 of 871

بیت بازی — Page 61

61 ۲۴۰ ۲۴۲ ۲۴۳ ۲۴۴ ۲۴۷ ۲۴۸ بے عیب چیز لیتے ہیں؛ تحفہ میں خُوبرُو داغ دل اشیم مٹانا ہی چاہیئے ۲۴ بادۂ عرفاں سے تیری؛ ان کے سر محمور ہیں جذبہ اُلفت سے تیرے؛ ان کے دل معمور ہیں بند کر کے آنکھ دنیا کی طرف سے؛ آج وہ رکھ رہے ہیں تیرے دیں کی ؟ سب جہاں میں لاج وہ بڑھتی رہے خدا کی محبت؛ خدا کرے حاصل ہو تم کو دید کی لذت؛ خدا کرے بڑھتی رہے ہمیشہ ہی طاقت؛ خُدا کرے جسموں کو چھو نہ جائے نقابت ؛ خُدا کرے ۲۳۵ بدیوں سے پہلو اپنا بچاتے رہو مدام تقویٰ کی راہیں طے ہوں بعجلت ؛ خُدا کرے ۲۴۶ بطحا کی وادیوں سے جو نکلا تھا آفتاب بڑھتا رہے وہ نور نبوت؛ خُدا کرے بار آور ہو جو ایسا کہ جہاں بھر کھائے دل میں میرے وہ شجر خیر کا؛ پیدا کر دیں بے سر و ساماں ہوں اس دنیا میں اے میرے خُدا! اپنی جنت میں بنا دیں؛ آپ میرا ایک گھر ۲۴۹ سوسو بسر کر عمر تو اپنی؛ نہ سو سو کر، نہ غفلت سے کہ ملتی ہے ہر اک عزت اطاعت سے عبادت سے ۲۵۰ بلا کی آگ برستی ہے آسماں سے آج ہیں تیر چھٹ رہے تقدیر کی کماں سے آج بیٹھ جاتا ہوں وہیں؛ تھام کے اپنے سر کو جب کبھی دل میں میرے؛ درد اُٹھا کرتا ہے بیٹھیں گے ابن آدم ؛ کب گنج عافیت میں شور وشغب یہ کب تک؛ یہ خرکشار کب تک ۲۵۳ پٹھا کر مائدہ پر؛ لاکھ وہ خاطر کریں میری گدا پھر بھی گدا ہے اور سُلطاں پھر بھی ہے سُلطاں بھائی! زمانہ کا یہ تیر تو دیکھنا جو صاحب جلال تھے؛ بے کار ہو گئے بجھا دے آگ میرے دل کی؛ آپ رحمت سے مصائب اور مکارہ کو ٹال دے پیارے! باغ کفار سے ہم نت نئے پھل کھاتے ہیں دل ہی دل میں وہ جسے دیکھ کے؛ جل جاتے ہیں ۲۵۷ بڑھ گئے ہم سے صحابہ توڑ کر ہر روک کو ہم سبگ ہو کر ؛ رگراں باروں سے پیچھے رہ گئے کلام حضرت خليفة المسيح الثالث ۲۵۱ ۲۵۲ ۲۵۴ ۲۵۶ ۲۵۸ برقی خیال دل میں سر میں رہے گا سودا اس یار کو میں بھولوں، اتنا نہ محو ہوں گا