بیت بازی — Page 735
735 ۴۴ ۴۵ ۴ ۴۷ ۴۸ ان نشانوں سے ہیں انکاری پر کہاں تک چلے گی طراری ہے ان کے باطن میں اک اندھیرا ہے کین و نخوت نے آکے گھیرا افسوس! آریوں پر جو ہوگئے ہیں شیر وہ دیکھ کر ہیں منکر؛ ظلم وجفا یہی ہے اک ہیں جو پاک بندے اک ہیں دلوں کے گندے جیتیں گے صادق آخر؛ حق کا مزا یہی ہے ان آریوں کا پیشہ ہر دَم ہے بد زبانی ویدوں میں آریوں نے شاید پڑھا یہی ہے ۴۹ افسوس ! سبّ و تو ہیں؛ سب کا ہوا ہے پیشہ کس کو کہوں؛ کہ ان میں ہرزہ درا یہی ہے ۵۰ آخر یہ آدمی تھے؛ پھر کیوں ہوئے درندے کیا جون ان کی بگڑی؛ یا خود قضا یہی ہے اپنے ینے کئے کا ثمرہ لیکھو نے کیسا یایا آخر خدا کے گھر میں؛ بد کی سزا یہی ہے احوال کیا کہوں میں ؛ اس غم سے اپنے دل کا گویا کہ ان غموں کا مہماں سرا یہی ہے راک وید ہے جو سچا؛ باقی کتابیں ساری جھوٹی ہیں اور جعلی؛ اک راہنما یہی ہے ایشر کے گن عجب ہیں؛ ویدوں میں اے عزیزو! اس میں نہیں مروت؛ ہم نے سنا یہی ہے ایشر بنا ہے منہ سے خالق نہیں کسی کا روحیں ہیں سب آنادی؛ پھر کیوں خدا یہی ۵۱ ۵۲ ۵۳ ۵۴ ۵۸ ½ ۵۹ Yo اسی نے بلا بچایا اسے ہے ہے ان کا ہی منہ ہے تکتا؛ ہر کام میں جو چاہے گویا وہ بادشہ ہیں؛ ان کا گدا یہی القصہ ؛ آریوں کے ویدوں کا یہ خدا ہے ان کا ہے جس پہ تکیہ؛ وہ بے نوا یہی ہے اے آریو! کہو اب، ایشر کے ہیں یہی گن جس پر ہو ناز کرتے؛ بولو وہ کیا یہی ہے ہر اک بد گہر سے چھڑایا اسے اس نے خدا ملایا؟ وہ یار اس سے پایا راتیں تھیں جتنی گذریں ؛ اب دن چڑھا یہی ہے اس نے نشاں دکھائے؛ طالب سبھی بلائے سوتے ہوئے جگائے؟ بس حق نما یہی ہے اسلام کے محاسن؛ کیونکر بیاں کروں میں سب خشک باغ دیکھے؛ پھولا پھلا یہی ہے آنکھ اس کی دُور میں ہے؛ دل یار سے قریں ہے ہاتھوں میں شمع دیں ہے؛ عین الضیاء یہی ہے ادھر آئیں دیکھیں، یہ تصویر ہے یہی پاک چولہ جہانگیر ہے ۶۵ اے میرے یار جانی! خود کر تو مہربانی ور نہ بلائے دنیا؛ اک اژدھا یہی ہے ۶۱ ۶۲ ۶۳ ۶۴