بیت بازی — Page 734
734 ۲۲ ۲۳ ۲۴ ۲۵ ۲۶ ۲۷ ۲۸ ۲۹ ۳۱ ۳۲ ۳۳ ۳۴ ۳۵ یرانی اکسیر ہے پیارے! صدق و سداد رکھنا یہ روز کر مبارک سبحان من يـ اس کی قسم؛ کہ جس نے یہ سورۃ اتاری ہے اس پاک دل پہ ؛ جس کی وہ صورت پیاری ہے آواز آرہی ہے؛ یہ فونوگراف سے ڈھونڈو خدا کو دل سے؛ نہ لاف و گزاف سے انہیں ماتم ؛ ہمارے گھر میں شادی فسبحان الذى اخزى الاعادي کیا جانیں کہ اس سینہ میں کیا ہے اگر اندھوں کو انکار و اباء ہے وہ ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس بہتر غلام احمد ہے اب آ گیا مسیح؛ جو دیں کا امام ہے دیں کی تمام جنگوں کا اب اختتام ہے اب جنگ اور جہاد کا فتوی فضول ہے اب آسماں سے نورِ خدا کا نزول ہے اک معجزہ کے طور سے؛ یہ پیشگوئی ہے کافی اب تم میں خود وہ قوت وطاقت نہیں رہی وہ ہے سوچنے کو؛ اگر اہل کوئی سلطنت، ہے وہ رعب؛ وہ شوکت نہیں رہی اب تم میں خود وہ سیف کی طاقت نہیں رہی بھید اس میں ہے یہی ؛ کہ وہ حاجت نہیں رہی اب کوئی تم پہ جبر نہیں غیر قوم اب ޏ کرتی نہیں ہے منع صلوۃ اور صوم سے زندگی تمہاری تو سب فاسقانہ ہے مومن نہیں ہو تم؛ کہ قدم کافرانہ ہے اب تم تو خود ہی مورد خشم خدا ہوئے اس یار سے بشامت عصیاں جدا ہوئے اب غیروں سے لڑائی کے معنے ہی کیا ہوئے تم خود ہی غیر بن کے؛ محل سزا ہوئے اب سال سترہ بھی صدی سے گذر گئے تم میں سے ہائے! سوچنے والے کدھر گئے ۳۸ آنکھ تر ہے؛ دل میں میرے، درد ہے کیوں دلوں پر اس قدر یہ گرد ہے غافلو! اک جوش ہے کچھ تو دیکھو! گر تمہیں کچھ ہوش ہے ۳۶ ۳۷ ۳۹ آسماں پر ۴۰ ۴۱ ۴۲ ۴۳ اس صدی کا بیسواں اب سال ہے شرک و بدعت سے جہاں پامال ہے ایک دنیا ہے مرچکی اب تک پھر بھی تو بہ نہیں؛ حالت ہے اس کی طرف ہے ہاتھ ہراک تارزلف کا ہجراں سے اس کے رہتی ہے وہ پیچ وتاب سے اس لئے اب غیرت اس کی کچھ تمہیں دکھلائے گی ہر طرف یہ آفت جاں؛ ہاتھ پھیلانے کو ہے