بیت بازی

by Other Authors

Page 60 of 871

بیت بازی — Page 60

60 60 ۲۱۹ ۲۲۰ ۲۲۱ ۲۲۲ ۲۲۳ ۲۲۴ ۲۲۵ ۲۲۶ ۲۲۷ ۲۲۸ ۲۲۹ ۲۳۰ ۲۳۱ ۲۳۲ نه بلا دے جگہ اپنی پاس اپنے؛ یہ میرا دل تو میرا ہی دل ہے؛ اسے تو رہنے دو میرے تن میں میں ہے بدل کے بھیس معالج کا؛ خود وہ آتے ہیں زمانہ کی جو طبیعت؛ کبھی بگڑتی بار مل جاتا ہے مجلس میں کسی کی دو پہر دن ہوئے جاتے ہیں روشن مرے؛ آب راتوں سے بُوئے چمن اُڑائے پھرے جو؛ وہ کیا صبا لائی ہے بُوئے دوست اُڑا کر؛ صبا یہ ہے تھے اِشاروں سے بار بار مجھے مُراد میں ہی تھا؟ مجھ سے مگر خطاب نہ تھا رہے بس ایک ٹھیس سے ہی پھٹ کے رہ گیا اے شیخ! یہ کیا ہوا؟ ترا دل تھا، کوئی حُباب نہ تھا بھاگا تھا اُن کو چھوڑ کے یونس کی طرح میں لیکن اُنھوں نے بھاگ کے پیچھے سے آلیا بڑھا کے نیکیاں میری؛ خطائیں کر کے معاف وہ اس ظہورِ گرم کو حِساب کہتے ہیں بھٹکتے پھر رہے ہو؟ سب جہاں میں کیا کیا تم نے دلبر کو پھلا کے بتاؤں تمھیں کیا؟ کہ کیا چاہتا ہوں ہوں بندہ؛ مگر میں خُدا چاہتا ہوں کس طرح دیں گے وہ حساب مجھے بے حد و ہے شمار میرے گناه وہ بس کے آنکھوں میں؛ دل میں گھر کر کے کر گئے یوں لا جواب مجھے بغل میں بیٹھے ہوئے؛ دستکوں کی کیا حاجت ہوں پختہ کار؛ تو پھر عشق خام سے کیا کام بچھے ہیں دام تو ان کیلئے، جو اُڑتے ہیں اسیر عشق ہوں میں ؛ مجھ کو دام سے کیا کام ۲۳۳ بُرا جما؟ کہ کھلا اپنی اپنی قسمت ہے ہمارے دل یہ ترا نقش کچھ جما تو سہی جدت طراز وہ ہیں؛ کہ جدت طراز ہم ۲۳۴ ۲۳۵ ۲۳۶ ۲۳۷ ۲۳۸ ۲۳۹ بطحا ނ نکلے وہ کبھی سینا سے آئے وہ بڑھ رہا ہے حد سے کیوں تقریر میں ہوش کر کچھ اُن کی پیشانی تو دیکھ بھڑ جاؤں، تو اُٹھتے ہوئے طوفانوں سے، لیکن کشتی کو سمندر میں ڈبونا نہیں آتا صلح اور ہر میں آگ نہ بد خواہ تو کسی کا بھی خیر میں خیر میں سبج ہے؟ تو شر میں آگ فلج بھائی بھائی کی جان کا پیری لب بن ہے بے کار رکھ کے سینہ میں دل؛ کیا کروں گا میں آخر کسی کے کام تو آنا ہی چاہیئے