بیت بازی

by Other Authors

Page 683 of 871

بیت بازی — Page 683

683 ۹ 1۔۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۵ تقویٰ کی جڑ یہی ہے؛ کہ خالق سے پیار ہو گو ہاتھ کام میں ہوں؛ مگر دل میں یار ہو تیرے بن زندگی کا کچھ نہیں لطف ہمارے ساتھ پیارے! ہر زماں ہو تجھے جس راہ سے لوگوں نے پایا وہ راز معرفت ہم پر عیاں ہو ا تم مُدَبِّر ہو، کہ بجرنیل ہو، یا عالم ہو ہم نہ خوش ہوں گے کبھی ، تم میں گر اسلام نہ ہو تم نے دنیا بھی جو کی فتح تو کچھ بھی نہ کیا نفسِ وحشی و جفا کیش؛ اگر رام نہ ہو تم نے منہ پھیر لیا؟ اُن کے اُلٹتے ہی نقاب کیا یہ ممکن ہے؛ کہ دلبر کی بھی پہچان نہ ہو تیری خدمت میں یہ ہے عرض ؛ بصد عجز و نیاز قبضہ غیر میں؛ اے جان! میری جان نہ ہو تو ہے مقبولِ الہی بھی؛ تو یہ بات نہ بھول سامنے تیرے کوئی موسیٰ عمران نہ ہو تجھ میں ہمت ہے؟ تو کچھ کر کے دیکھا دُنیا کو اپنے اجداد کے اعمال پر نازان نہ ہو تمھیں تریاق مُبارک ہو، مجھے زہر کے گھونٹ غم ہی اچھا ہے مجھے، تم مجھے غم کھانے دو تن سے کیا جان جُدا رہتی ہے؛ یا جان سے تن راستہ چھوڑ دو دربانو! مجھے جانے دو تو ایک ہو ساری دنیا میں کوئی ساجھی اور شریک نہ ہو تو سب دنیا کو دے لیکن خود تیرے ہاتھ میں بھیک نہ ہو تم دیکھو گے کہ انہی میں سے قطرات محبت ٹپکیں گے بادل آفات و مصائب کے چھاتے ہیں اگر تو چھانے دو تم یاد آرہی ہو؛ دل کو ستا رہی ہو میں کیا کروں، کہ ہردم؛ تم دُور جا رہی ہو تیرا جہان وہم ہے؛ میرا جہاں عمل میں مست حال ہوں؛ تو ہے مستِ خیال تو تقدس کی تڑپ دل میں ؛ تو آنکھوں میں حیا کبھی مگر ان خواہشوں کے ساتھ دامن کر دیا مجھ کو تجھ پہ رحمت ہو خدا کی؛ کہ مسیحا تو نے رشة ألفت و وحدت میں ہے باندھا ہم کو ۱۸ ۱۹ ۲۱ ۲۲ ۲۳ ۲۴ ۲۵