بیت بازی

by Other Authors

Page 681 of 871

بیت بازی — Page 681

681 کلام طاهر پھر باغ مصطفیٰ کا دھیان آیا ذوالمنن کو سینچا پھر آنسوؤں سے؛ احمد نے اس چمن کو پیشوائی کرو؛ تمہاری طرف آ رہا ہے نیا نظام؛ چلو ۶ ۷ Δ ۱۱ پلٹ سکو تو پلٹ دو خرام شام و سحر حساب چرخ کو بے اعتبار کر دیکھو پہلے تو میری موجودگی میں تم اُکتائے سے رہتے تھے اب میرے بعد تمہارا دل گھبرائے گا؛ گھبرانے دو کلام محمود پھر آزماؤ اپنے ارادوں کی پختگی پھر تم دلوں کی طاقتوں کا امتحاں کرو پھر ریزہ ریزہ کردو بُت شرک و کفر کو کفار و مشرکین کو پھر نیم جاں کرو پہنچا کے چھوڑو جھوٹوں کو پھر اُن کے گھر تلک ہاں! پھر سمند طبع کی جولانیاں کرو پھر تم اُٹھاؤ رنج و تعب؛ دیں کے واسطے قربان راه دین محمد میں جاں کرو پھر اپنے ساتھ اور خلائق کو لو میلا نامہربان جو ہیں؟ انھیں مہرباں کرو پھر دشمنوں کو حلقہ اُلفت میں باندھ لو جو تم سے لڑ رہے ہیں؟ انہیں ہم زباں کرو پھر اس پہ اپنے حال زبوں کو عیاں کرو پھر اُس کے آگے نالہ و آہ و فغاں کرو پھر راتیں کاٹو جاگ کے؛ یاد حبیب میں پھر آنسوؤں کا آنکھ سے دریا رواں کرو پھر اُس کی میٹھی میٹھی صداؤں کو تم سُنو پھر اپنے دل کو وصل سے؛ تم شادماں کرو کافور ہو تم زخموں دل بیمار کے درمان و دوا ہو جاؤ پاس ہو مال؛ تو دو اُس سے زکوۃ و صدقہ فکرمسکیں رہے تم کو؛ غم ایام نہ ہو پڑگئی جس پہ نظر ہو گیا مدہوش وہی میرے دلدار کی آنکھیں ہیں؛ کہ تم خانے دو پس اے میرے عزیزو! میرے بچو! دل و جاں سے؛ اسے محبوب رکھو ۱۸ پھر میری خوش قسمتی سے جمع ہیں ابر و بہار جام اک بھر کر پلا دے؛ ہاں پلا دے آج تُو ۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۵ ۱۶ 1 ۱۹ پیکر مرحم کافور پنبه پھر عقل کا دامن چھٹتا ہے؛ پھر وحشت جوش میں آتی ہے جب کہتے ہیں وہ دنیا سے چھیڑو نہ مرے دیوانے کو