بیت بازی — Page 677
677 z Λ ۹ ۱۰ "1 ۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۵ ایسے خدا کے خوف سے؛ دل کیسے پاک ہو سینہ میں اس کے عشق سے؛ کیونکر تپاک ہو اس بے ثبات گھر کی محبت کو چھوڑ دو اس یار کیلئے رہ عشرت کو چھوڑ دو اے کرم خاک! چھوڑ دے کبر و غرور کو زیبا ہے کبر؛ حضرت رپ غیور کو اے دوستو پیارو! عقبی کو مت بسارو کچھ زادِراہ لے لو؛ کچھ کام میں گزارو اے دوستو! جو پڑھتے ہو ائم الکتاب کو اب دیکھو میری آنکھوں سے اس آفتاب کو تو ہر ذرے کا وہ مالک کہاں ہو ذرہ اُس بن خود عیاں ہو 12 اگر افضل ہر در عدن رو ہمارے حکم کو تم جانتی رہیں دنیا و دیں میں تم کو فضیلت نصیب ہو اک نور خاص میرے دل و جاں کو بخش دو میرے گناہ ظاہر و پنہاں کو بخش اقبال تاج سر ہو؛ تیرے سر کے تاج کا اس کو خدا و خلق کی خدمت نصیب ہو ایسی تمہارے گھر کے چراغوں کی ہو ضیاء عالم کو جن سے نور ہدایت نصیب ہو اپنی ستاری کا صدقہ؛ میرے ستارالعیوب حوض کوثر میں ڈبودے نامہ اعمال کو احسن سمجھ رہے ہیں ہر امر فتیح کو وقت آچکا ہے دیر سے بھیجو مسیح کو کلام طاهر اگر آہوں کا تھا بُلا وا؛ پھولوں کی انجمن کو اور کھینچ لائے نالے مُرغان خوش لحن کو ہے ضد کہ نہ مانو گے، پر نہ مانو گے تو ہو سکے جو کرو؛ بار بار کر دیکھو اُتر رہی ہیں فلک سے گواہیاں؛ روکو غل غپاڑہ کرو؛ حال زار کر دیکھو اسے ڈبو کے کوئی اور اچھال کام کا چاند تو یہ کرے؛ تو کبھی تجھ پہ پھر زوال نہ ہو ۱۸ آگے بڑھ کر قدم تو لو دیکھو! وہ عہد کلام محمود ہے تمہارے نام چلو 19 اُٹھ کے دشمن کے مقابل پر کھڑا ہو جا تو اپنے احباب سے ہی دست وگریباں مت ہو ۲۰ اپنے بیگانوں نے؛ جب چھوڑ دیا ساتھ میرا وہ میرے ساتھ رہا؛ اس کی وفا دیکھو تو