بیت بازی — Page 665
665 ۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۵ 14 12 ۱۸ ۱۹ ۲۱ ۲۲ ۲۳ ۲۴ ۲۶ ۲۷ ۲۸ وہ لغو دیں ہے؛ جس میں فقط قصہ جات ہیں اُن سے رہیں الگ جو سعید الصفات ہیں وہ تازہ قدرتیں؛ جو خدا پر دلیل ہیں وہ زندہ طاقتیں؛ جو یقیں کی سبیل ہیں وہ اس کے ہو گئے ہیں؛ اُسی سے وہ جیتے ہیں ہر دم اسی کے ہاتھ سے اک جام پیتے ہیں وہ دُور ہیں خدا سے؛ جو تقویٰ سے دُور ہیں ہر دم اسیر نخوت و کبر و غرور ہیں وہی خدا اسی رو فرخ سے پاتے ہیں دلبر کا بانکپن بھی؛ اسی سے دکھاتے ہیں وہ دیکھتا ہے؛ غیروں سے کیوں دل لگاتے ہو جو کچھ بچوں میں پاتے ہو؟ اُس میں وہ کیا نہیں وہ گھڑی آتی ہے؛ جب عیسی “ پکاریں گے مجھے اب تو تھوڑے رہ گئے ؛ دجال کہلانے کے دن واحد ہے، لاشریک ہے؛ اور لازوال ہے سب موت کا شکار ہیں؛ اُس کو فنا نہیں وہ نشاں؛ جس کی روشنی سے جہاں ہو کے بیدار ہو گیا لرزاں ودرّ عدن وہ لب جاں بخش کہہ کر قم باذنی چپ ہوئے ہجر کے ماروں کو اب کوئی جلائے گا نہیں؟ وحشت مری نہیں ابھی ہم پایہ جنوں اہلِ خرد پہ بار ہوں؛ عاقل نہیں ہوں میں وہ کرم کر کہ عدو کی بھی نگاہیں کھل جائیں خیر ہی خیر رہے؛ خیر کی راہیں کھل جائیں وہی یاد وعدہ تیرا کر رہی ہوں بڑی آس لے کر دعا کر رہی ہوں وہ کہاں پیار وہ آپس میں دلوں کی باتیں آہ! اس خواب کی تعبیر کہاں سے لاؤں؟ وصل کے عادی سے گھڑیاں ہجر کی کٹتی نہیں بار فرقت آپ کا؛ کیونکر اُٹھائے قادیاں کلام طاهر جن کی جبینوں کے انوار سے؛ وہ روشن ہیں زندان اے دیس سے آنے والے بتا! وطن کس حال میں ہیں یارانِ وطن وہ والی تھا مسکینوں کا؛ بیواؤں اور یتیموں کا یہ ماؤں بہنوں کے سر کی ؛ چادر کو جلانے والے ہیں بھوکوں کے ہاتھوں کی روٹی؛ ۲۹ وہ جو دوسخا کا شہزادہ تھا؛ بھوک مٹانے آیا تھا چھین کے کھانے والے ہیں