بیت بازی — Page 655
655 ۴ در ثمین لوگو سُنو! کہ زندہ خدا؛ وہ خدا نہیں جس میں ہمیشہ عادت قدرت نما نہیں لعنت ہے مفتری پہ؛ خدا کی کتاب میں عزت نہیں ہے ذرہ بھی؛ اس کی جناب میں کلام محمود لوگوں کو غفلت کی تو ترغیب دیتا ہے؛ مگر بھول جائیگا یہ سب کچھ ؛ تو سزا پانے کے دن لیا کیوں ورثہ پدری ؛ وفاداری نہ کیوں چھوڑی نگاہ دوستاں میں میں تبھی مقہور رہتا ہوں لذت جہل سے محروم کیا علم نے؛ آہ! خواہش اُڑنے کی تو رکھتا ہوں؛ مگر پر ہی نہیں لڑائی اور جھگڑے دُور کردیں دلوں کو پیار سے معمور کردیں لوگ بیتاب ہیں بیحد؛ کہ نمونہ دیکھیں سالک رہ کیلئے مجھ کو نمونہ کردیں لاکھ دن ان کے نام پر قرباں راتیں عنبریں راتیں تاجیں 'م' سے 'ن' ام سے شروع ہو کر ان پر ختم ہونے والے اشعار ) تعداد گل اشعار 117 22 18 3 74 در ثمين در عدن كلام طاهر کلام محمود i := ==== iv