بیت بازی — Page 654
654 ۱۲ ۱۳ ۱۴ گفتگوئے عاشقاں سُن سُن کے آخر یہ کہا بات تو چھوٹی سی تھی؛ اتنا کیا اطناب کیوں گالیاں کھائیں، پٹے ؛ خوب ہی رُسوا بھی ہوئے عشق کی ایسی حلاوت ہے؛ کہ جاتی ہی نہیں گو بارہا دیکھا انہیں؛ لیکن وہ لذت اور تھی دل سے کوئی پوچھے ذرا؛ لطف نگاہ اولیں گرد اس کے گھومتا ہوں روزوشب دیوانہ وار لوگ گر سمجھیں تو بس اک میں ہی ہشیاروں میں ہوں گو ہیں قالب دو؛ مگر ہے جان ایک کیوں نہ ہو ایسا کہ خادم زادہ ہوں گو میرا دل مخزن تیر نگاہ یار ہے پر یہ کیا کم ہے؛ کہ اس کے تیر برداروں میں ہوں گر نہیں عرش معلی ٹکراتی تو پھر سب جہاں میں گونجتی ہے کیوں صدائے قادیاں گلشن احمد کے پھولوں کی اُڑالائی جو بُو زخم تازہ کر گئی بادِ صبائے قادیاں ۱۷ گیسوئے یار پریشان ہوئے جاتے ہیں اب تو واعظ بھی پشیمان ہوئے جاتے ہیں گورے کالے کی اُٹھی جاتی ہے دنیا سے تمیز سب ترے تابع فرمان ہوئے جاتے ہیں گھونسلے چڑیوں کے ہیں ماندیں ہیں شیروں کیلئے پر مرے واسطے؛ دنیا میں کوئی گھر ہی نہیں گر تیری ہمت چھوٹی ہے گر تیرے ارادے مُردہ ہیں گر تیری اُمنگیں کو تہ ہیں ، گر تیرے خیال افسر وہ ہیں گو کہ اس دن پھیل جائے گی؛ تباہی چارسُو جبکہ پھر آئیں گے یارو! زلزلہ آنے کے دن ۱۵ ۱۶ ۱۸ 19 ۲۱ !! 'ل' سے 'ن' ال سے شروع ہو کر ان پرختم ہونے والے اشعار ) تعداد گل اشعار در ثمين کلام محمود 8 2 00 6