بیت بازی

by Other Authors

Page 652 of 871

بیت بازی — Page 652

652 Al ۸۲ ۸۳ ۸۴ ۸۵ کرے گا فاصلہ کیا؟ جب کہ دل اکٹھے ہوں ہزار دور رہوں اس سے؛ پھر قریب ہوں میں کر اپنے فضل سے تو میرے ہم سفر پیدا کہ اس دیار میں ؛ اے جانِ من ! غریب ہوں میں کیوں بنیں پہلی رات کا خواب تیری بڑائیاں قصہ ما مضلی ہوئی؛ تیری وہ آن بان کیوں کسب معاش کی رہیں تیری ہر اک گھڑی ہے جب تیرے عزیز پھر بھی ہیں فاقوں سے نیم جان کیوں کیوں ہیں یہ تیرے قلب پر کفر کی چیرہ دستیاں دل سے ہوئی ہے تیرے محو خصلت امتنان کیوں کردے رسا دُعا کو میری؛ وہ اثر کہاں دھودے جو سب گنہ مرے؛ وہ چشم تر کہاں کچھ بھی خبر نہیں؛ کہ کہاں ہوں، کہاں نہیں جب جان کی خبر نہیں؛ تن کی خبر کہاں ۸۸ کیا تیرے ساتھ لگا کر دل میں خود بھی کمینہ بن جاؤں ہوں جنت کا مینار؛ مگر دوزخ کا زینہ بن جاؤں گجا ہم اور گجا مولیٰ کی باتیں گجا دن اور گجا تاریک راتیں باتیں معارف کی ہیں سینوں میں نہریں ΛΥ ۸۹ ۹۰ ۹۱ ۹۲ ۹۳ ۹۴ ۹۵ ۹۶ ۹۷ ۹۸ ۹۹ کریں تیرے فرشتے اُن سے کیسی ٹھنڈی ہوائیں چلتی تھیں ناز و رعنائی مچلتی تھیں سے فائدہ کیا؟ وہ کہاں نہیں کیوں چھوڑتا ہے دل مجھے اس کی تلاش میں آوارگی کھویا گیا خود آپ کسی کی تلاش میں کچھ بھی خبر نہیں؛ کہ کہاں ہوں، کہاں نہیں کیوں جرم نقض عہد کے ہوں مرتکب جناب جب آپ عہد کرنے پہ مجبور ہی نہیں کبھی حضور میں اپنے جو بار دیتے ہیں ہو اور حرص کی دنیا کو مار دیتے ہیں کسی کا قرض نہیں رکھتے اپنے سر پر وہ جو ایک دے اُنہیں؛ اُس کو ہزار دیتے ہیں کھلے جو آنکھ ؛ تو لوگ اُس کو خواب کہتے ہیں ہو عقل اندھی؛ تو اُس کو شباب کہتے ہیں کسی کے حُسن کی ہے اس میں آب کہتے ہیں بنی ہے طین اسی سے تراب کہتے ہیں ہے زاھد ؛ کہ میں فرمانروائی چھوڑ دوں گر خدا مجھ کو ملے؛ ساری خُدائی چھوڑ دوں کہتا