بیت بازی — Page 643
643 در ثمین عاشق جو ہیں؛ وہ یار کو مر مر کے پاتے ہیں جب مرگئے؛ تو اس کی طرف کھینچے جاتے ہیں عهد شد از کردگار بے چگوں غورگن در آنهم لا يرجعون عدو جب بڑھ گیا شور و فغاں میں نہاں ہم ہوگئے یارِ نہاں میں عزیزو! کچھ نہیں اس بات میں جاں اگر کچھ ہے؟ تو دکھلاؤ بمیداں در عدن ه علم و توفیق بلاغ دین؛ ہو ان کو عطاء قادیاں والوں کا ہو ناصر؛ خدائے قادیاں ۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۵ ۱۶ 12 ۱۸ کلام طاهر عجب مزا ہے؛ جب اُردو کلاس ہوتی ہے تو چھوٹے لڑکے بھی بلیوں اچھل کے دیکھتے ہیں عروج اپنا مقدر ہے؛ اور ان کا زوال یہ وہ اُبال ہے؛ جس میں اہل کے دیکھتے ہیں کلام محمود عشق میں اک گل نازک کے ہوا ہوں مجنوں دھجیاں جامہ من کی میں اُڑائوں تو کہوں عطا کر عُمر و صحت ہم کو یارب! ہمیں مت ڈال پیارے! امتحاں میں عشق میں کھوئے گئے ہوش وحواس و فکر و عقل آب سوالِ دید جائز ہے؛ کہ ناداروں میں ہوں عشق بھی کھیل ہے ان کا؛ کہ جو دل رکھتے ہیں ہو جو سودا، تو کہاں ہو؟ کہ یہاں سر ہی نہیں عاشق کے آنسوؤں کی ذرا آب دیکھ لیں ہیرے کہاں ہیں، لعل کہاں ہیں؛ گہر کہاں آسمانی اُن کو مل جائیں دلوں کی اُن کے کلیاں؛ خوب کھل جائیں عُمر گزرے گی مری؛ کیا یونہی اُن کی یاد میں کیا نہ رکھیں گے قدم وہ اِس دِلِ ناشاد میں حد ہے جسے بھی دیتے ہیں؛ وہ بے ھمار دیتے ہیں عظمی کو بھلایا ہے تو نے ؛ تو احمق ہے، ہشیار نہیں یہ تیری ساری کستانی، بے کار ہے؛ گر کر دار نہیں عرش سے کھینچ کے لے آئی خُدا کو؛ جو چیز تیری بروقت دوہائی تھی؛ ہے تیرا احساں علوم عطاف پخشش و انعام کی کوئی کی کوئی حد ہے عاشقوں کیلئے ہیں اک رحمت ناز بردار نازنیں راتیں