بیت بازی — Page 642
642 Y ودر ثمین ظاہر ہیں خود نشاں؛ کہ زماں، وہ زماں نہیں اب قوم میں ہماری؛ وہ تاب و نہ تواں نہیں ظاہر ہے یہ کہ قصوں میں ان کا اثر نہیں افسانہ گو کو راہ خدا کی خبر نہیں رد و عدن ظلموں کی تیری قوم کا؛ کچھ انتہاء نہیں ضرب اغلام اهـــانـــت مـولا سنتا نہیں کلام طاهر اے دیس سے آنے والے بتا! ظالم ہوں گے رُسوائے جہاں؛ مظلوم بنیں گے آن وطن گے آنِ وطن کس حال میں ہیں یارانِ وطن کلام محمود ہ ظلمتیں آپ کو سجتی نہیں؛ میرے پیارے! دے سب چاک کریں؛ چہرہ کو ننگا کردیں ظاہر میں سب ابرار ہیں باطن میں سب اشرار ہیں سیح ہیں، پر بدکار ہیں؛ ہیں ڈاکٹر ، پر زار ہیں ظلمتیں کافور ہوجائیں گی اک دن دیکھنا ! میں بھی اک نورانی چہرہ کے پرستاروں میں ہوں ظلمت و تاریکی و ضد و تعصب مٹ چکے آگئے ہیں اب خُدا کے چہرہ دکھلانے کے دن i 'ع''ن' ('ع' سے شروع ہو کر ان' پر ختم ہونے والے اشعار ) تعداد گل اشعار 22 4 1 2 15 در ثمين در عدن كلام طاهر کلام محمود := iii iv