بیت بازی

by Other Authors

Page 629 of 871

بیت بازی — Page 629

629 خدا کیلئے چھوڑو اب بغض و کیں ذرا سوچو باتوں کو ہو کر امیں خوبوں کے حسن میں بھی؛ اسی کا وہ نور ہے کیا چیز حسن ہے؛ وہی چمکا حجاب میں خدمتِ دیں کا تو کھو بیٹھے ہو بغض و کیں سے وقت اب نہ جائیں ہاتھ سے لوگو! یہ پچھتانے کے دن خالق مٹی ޏ مٹی گھڑتا میں رہنا پڑتا ودر عدن ہے؛ یہ خاک ہی کرتی پاک بھی ہے؟ ہے مل مل کے یہیں دل دھوتے ہیں خالق ہر دو جہاں کی رحمتیں ہوں آپ پر والسلام اے شاہ دیں؛ اے رہنمائے قادیاں خیریت سے آپ کو؛ اور ساتھ سب احباب کو جامع المتفرقين؛ جلدی سے لائے قادیاں خُلق اس معصوم کا؛ اس کی ادائیں دل نشین بھولنا چاہیں بھی گر ؛ تو بھولنا ممکن نہیں خوبیاں بھر دی تھیں مولیٰ نے دل داؤد میں خادم محمود پہنچا خدمت محمود میں قرآن میں رہو اپنی ماؤں کے فرمان میں کلام طاهر خدا نے کہا ۱۲ خانہ دل میں اتر کر یہ فقیروں کے سے غم نالۂ شب سے نصیب اپنا جگا لیتے ہیں خدا کے فضلوں پر ہوتا ہے اپنا دل ٹھنڈا تو مولوی ہمیں کیوں اتنا جل کے دیکھتے ہیں کلام محمود ۱۳ خدا تو عرش سے اُترا ہے مُنہ دکھانے کو پر آدمی ہیں؛ کہ بس منہ بنائے پھرتے ہیں ۱۴ ۱۵ ۱۶ ۱۸ ۱۹ خُدایا! دردِ دِل خواہش سے ہے یہ میرا تو ساتھ دے دونوں جہاں میں خنجر ناز پہ ہم جان کو قرباں کردیں اور لوگوں کیلئے راستہ آسماں کردیں خشمگیں پھر بھلا اس آدمی کا ساتھ دیں اسباب کیوں احساں کہ جس کو دیکھ کر ہوں سخت حیراں خالق اسباب ہی جب ہو کسی پر خُدا کا اس قدر ہے ہم خُدا نے فضل سے اپنے ہمیں بھی کھلائے اس کے ہیں اثمار شیریں خیال رہتا ہے ہمیشہ اُس مقامِ پاک کا سوتے سوتے بھی یہ کہہ اُٹھتا ہوں؛ ہائے قادیاں! Y ۷ Δ